.

اسرائیلی جاسوس کی رہائی امن مذاکرات سے منسلک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جاسوس کی قسمت کا فیصلہ امن مذاکرات کے مستقبل سے وابستہ ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور اسرائیل ان دنوں سزا یافتہ اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کی رہائی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے جوناتھن پولارڈ ان دنوں امریکا میں عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ پولارڈ امریکا کیلیے ایک سویلین جاسوس تجزیہ کار کے طور پر امریکی بحریہ پر کام کر رہا تھا۔ اس نے امریکی بحریہ کے حوالے سے اپنے اسرائیلی ہینڈلرز کو ہزاروں دستاویزات فراہم کیں جس کے بعد اسے واشنگٹن میں گرفتار کر لیا گیا۔

اسے 1985 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسرائیل کیلیے امریکا کی جاسوسی کرنے کے جرم سزا ہو ئی تھی۔ اسرائیل کیلیے اس کی رہائی ایک اہم معاملہ ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اس جاسوس کو یہودی تہوار کے سلسلے میں ایک ہفتے کی چھٹیوں سے پہلے رہا کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

خیال رہے یہ یہودی تہوار کے سلسلے میں تعطیلات ماہ اپریل کے وسط میں شروع ہوں گی۔ تجویز کے مطابق اسرائیل فلسطینی اسیران کے چوتھے گروپ کو رہائی دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جنہیں اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے اسرائیل کی طرف سے ان چار سو بیس قیدیوں کی تبادلے میں رہائی کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا ہے جو چھوٹے موٹے الزامات میں اسرائیل میں قید ہیں۔

اسرائیلی جاسوس پولارڈ کے حوالے سے امریکی صدر براک اوباما نے مشرق وسطی کے پچھلے سال مارچ میں ہونے والے دورے سے پہلے کہا تھا ''اس ایک فرد نے امریکا ایک سنگین جرم کیا ہے، اس لیے وہ اپنی سزا بھگت رہا ہے۔ ''لیکن اب امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلیے امریکا نے اپنے خلاف سرگرم رہنے والے اسرائیلی جاسوس کی رہائی کی تجویز پر آمادہ ہوا ہے، تاہم اس سلسلے میں پیش رفت کا انحصار امن مذاکرات کے آگے بڑھنے سے ہے۔