.

برطانیہ: اخوان کے بارے میں تحقیقات شروع

اخوان کے فکرو فلسفہ اور سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے اخوان المسلمون کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ اخوان کی طرف سے لندن میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کا سراغ لگایا جا سکے۔ یہ بات برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دفتر کی طرف سے منگل کے روز سامنے لائی گئی ہے۔

اس سلسلے میں جائزہ سعودی عرب میں برطانوی سفیر جان جین کنز کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ''وزیر اعظم نے اخوان المسلمون کے بنیادی نظریے، سرگرمیوں اور حکومت کی اس تنظیم کے بارے میں پالیسی کا جائزہ لینے کیلیے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔

اس سے پہلے '' ٹائمز'' کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برطانوی حساس اداروں کو اخوان المسلمون کے نظریات اور سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اخوان کی طرف سے برطانیہ کیلیے کسی ممکنہ خطرے کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے پچھلے سال اخوان المسلمون کے رہنماوں نے لندن میں جمع ہو کر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کا ردعمل دینے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ واضح رہے اخوان المسلمون پر مصر کی فوجی حمایت سے قائم عبوری حکومت تشدد کا الزام لگاتی ہے۔

پچھلے ہفتے سابق وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔ جبکہ اخوان المسلمون جس کے بڑی تعداد میں کارکن اور رہنما جولائی 2013 کے بعد سے زیر حراست ہے کا موقف ۔ہے کہ السیسی کے صدر بننے سے ملک میں استحکام ممکن نہیں ہو گا۔

ماہ جنوری میں ٹیلیگراف نے اپنی ایک رپورٹ میں اک لندن کے مضافات میں ایک کباب ہاوس کے اوپر قائم فلیٹ کی اخوان کے دفتر کے طور پر نشان دہی کی تھی۔ اخوان کے قریب کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ لندن، اخوان کیلیے محفوظ شہر ہے۔