.

عرب بہاریہ نے اسرائیل کو مضبوط بنایا: علی صالح

اخوان المسلمون دشمن کی آلہ کار جماعت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے سنہ 2011ء کے بعد سے بعض عرب ملکوں میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ 'نادان' لوگ عرب حکومتوں کے خلاف بغاوت کو "عرب بہاریہ" قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ عرب بہاریہ نہیں بلکہ"عبرانی [مراد اسرائیلی] بہاریہ" ہے کیونکہ ان تحریکوں کے نتیجے میں اسراِئیل طاقتور اور مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان انقلابی تحریکوں کے نتیجے میں ایسی جماعتوں اور گروپوں کو اقتدار تک پہنچنے کا موقع ملا جن کا حکومت میں آنا عرب قیادت کے لیے عیب کا باعث تھا۔ جب ان لوگوں اقتدار ہاتھ میں لینا شروع کیا تو انہوں نے ایک نیا دین ایجاد کرنے اور اپنے خلاف بغاوت کو حرام قرار دینے کے فتوے صادر کرنا شروع کر دیے۔

علی عبداللہ صالح نے ان خیالات کا اظہار کویتی اخبار "الرائے" کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا دوبارہ حکومت سنھبالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں متعدد مرتبہ یہ وضاحت کرچکا ہوں کہ ہم نے قبل از وقت انتخابات کے ذریعے اقتدار نائب صدر عبد ربہ منصور ھادی کو سپرد کیا۔ مجھے دوبارہ ان سے اقتدار چھیننے کا کوئی حق نہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں علی عبداللہ صالح نے کہا کہ یمن میں سیاسی تبدیلی پرامن طریقے سے ہوئی جس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کے غرور کا سر نیچا ہوا۔ یہ یمن میں بھی تیونس، لیبیا اور مصر کا تجربہ دہرانا چاہتے تھے، لیکن میں یمنی اپوزیشن کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں خلیج تعاون کونسل کے امن فارمولے کو عملی شکل دینے میں تعاون کیا اور ملک خون خرابے سے بچ کیا۔

اخواب المسلمون کے اہداف

عرب حکومتوں کے زیر عتاب اعتدال پسند مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق یمنی صدر نے کہا کہ "میں ماضی میں بھی اخوان المسلمون کی سرگرمیوں سے متعلق خبردار کیا تھا۔ اخوان المسلمون خود کو فلسطین کی اسراِئیلی قبضے سے آزادی کے لیے ایک امید کی کرن کے طور پر پیش کر رہی تھی لیکن میں نے خبردار کیا کہ نہیں، اخوان مسئلہ فلسطین کو اور عرب قومیت کو تباہ کرنے کی آلہ کار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخوان نے اپنے منشور میں غاصب صہیونی ریاست کے خلاف جہاد کو لازمی قرار دیا لیکن بندوق اپنے مسلمان بھائیوں پر اٹھائی۔

انہوں نے حال ہی میں کویت کی میزبانی میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس میں کویت کی مساعی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کویت خلیجی ریاست کویت نے عرب ممالک کا شیراہ بکھرنے سے بچا لیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کویت میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس میں منظور کی جانے والی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق تمام عرب ممالک عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ مداخلت کا جو سلسلہ سنہ 2011ء میں شروع ہوا تھا۔ اب اس کا باب بند ہونا چاہیے۔