.

نیٹو کا روس کے ساتھ عسکری و غیر عسکری تعاون معطل

کریمیا پر روسی قبضہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے: نیٹو سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیٹو نے روس کے ساتھ عسکری و غیر عسکری ہر شعبے میں تعاون معطل کر دیا ہے۔ نارتھ اٹلانٹک معاہدے میں منسلک تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے یہ فیصلہ برسلز میں کیا ہے۔ اس سلسلے میں 28 نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس نیٹو مرکز میں ہوا ہے۔

کریمیا میں روسی فوجی مداخلت اور کریمیا کے روس سے الحاق کے بعد مشرق اور مغرب کے درمیان سرد جنگ کے بعد ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ کریمیا پر روسی قبضے کے بعد نیٹو مالک کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ اجلاس کے دوران مشرقی یورپ اور وسطی یورپ میں نیٹو فورسز کی زیادہ سے زیادہ موجودگی کی ممکنہ صورتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ نیٹو ممالک یوکرین کے ساتھ تعاون میں اضافہ کریں گے۔ لہذا روس کے ساتھ تعاون میں کمی بھی کرنا پڑی تو کی جائے گی۔ نیٹو ممالک نے کریمیا میں روسی اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا۔

نیٹو کے سربراہ اینڈرس راسمین نے کہا ''روسی اقدامات ان اصولوں کے خلاف ہیں جن کی بنیاد پر پارٹنر شپ بنائی گئی ہے، روس نے کریمیا کے حوالے سے اقدامات کر کے اپنے بین الاقوامی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ '' انہوں نے مزید کہا اس صورتحال میں ہم روس کے ساتھ معمول کا تعلق اور تعاون جاری نہیں رکھ سکتے۔''

نیٹو سربراہ نے کہا ہمیں اس کی علامت نظر نہیں آتی ہے کہ روس کریمیا سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے، اس لیے ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایسا نہیں ہے۔