.

امریکی فوجی اڈے پر حملہ، تین فوجی ہلاک سولہ زخمی

حملہ آور فوجی نفسیاتی مسئلے سے دوچار تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوجی نے ریاست ٹیکساس میں امریکی فوجی بیس فورٹ ہڈ پر فائرنگ کر کے تین ساتھیوں کو ہلاک اور 16 کو زخمی کر دیا ہے۔ بعدازاں قاتل امریکی فوجی نے خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی فوجی ذہنی عارضے میں مبتلا تھا اور اس کا علاج جاری تھا۔

وہ گاڑی پر آیا اور ملٹری پولیس کے روکنے سے پہلے ہی فوجی اڈے کی دو عمارات پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس کی یہ کارروائی پندرہ سے بیس منٹ تک جاری رہی۔ کارروائی کے آخر میں 45 کیلیبر پستول سے اپنے سر میں گولی مار کر خود کشی کر لی۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق اس وحشیانہ کارروائی کے مرتکب فوجی کا نام آیون لوپیز کے طور پر شناخت ہوا ہے اور وہ عراق میں تعینات رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ہے۔ فوجی حکام کے مطابق زخمی اور ہلاک ہونے والے تمام کے تمام امریکی فوجی ہیں۔

اس واقعے پر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یہ سن کر '' میرا دل شکستہ ہوا ہے، فورٹ ہڈ میں ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔'' انہوں نے شکاگو میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے مزید کہا '' ہم مسئلے کہ تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں کہ اصل میں کیا وجہ بنی ہے۔''

واضح رہے امریکی فوجی چھاونیوں یا اڈوں پر اس نوعیت کا چھ ماہ کے دوران یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس واقعے کے فوری بعد فوجی اڈا بند کر دیا گیا ، اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے شعبوں کی گاڑیاں اڈے کی طرف روانہ کر دی گئیں اور فضا میں ہیلی کاپٹر گشت کرنے لگے جبکہ فوجی اڈے کی ایک ایک عمارت چھان ماری گئی کہ قاتل فوجیوں کی تعداد زیادہ تو نہیں تھی۔

فورٹ ہڈ میں قائم کالج کو بھی فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے ہونو لولو میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس واقعے کے بارے میں کہا ہے کہ '' یہ ایک خوفناک سانحہ ہے، ہم جانتے ہیں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور لوگ مارے بھی گئے ہیں اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔''