.

ترکی:عدالتی فیصلے کے بعد ٹویٹر پر پابندی ختم،رسائی بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ٹیلی کمیونیکشنز اتھارٹی نے آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر حکومت کی جانب سے عاید کردہ پابندی ختم کردی ہے۔

آئینی عدالت نے قراردیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ٹویٹر پر پابندی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے ایک عہدے دار نے ٹویٹر پر پابندی ہٹائے جانے کی تصدیق کردی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹیلی کمیونیکشنز اتھارٹی انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والوں کو فیصلے سے آگاہ کرے گی اور جمعرات کی رات ٹویٹر تک رسائی مکمل طور پر بحال ہوجائے گی۔

انقرہ میں امریکی سفارت خانے نے ٹویٹر پر پابندی ہٹانے سے متعلق عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ترک حکومت نے گذشتہ اتوار کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات سے قبل بعض ارباب اقتدار کے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے سے متعلق مختلف کہانیاں اور ٹیپس سامنے آنے کے بعد مائیکرو بلاگنگ سائٹ کو بند کردیا تھا۔

ترکی کی ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی نے ٹویٹر کو حکومت کے خلاف قابل اعتراض مواد ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔اس پراس کو بند کردیا گیا تھا لیکن اس پابندی کے باوجود صدر عبداللہ گل سمیت بہت سے صارفین ٹویٹر کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

ترکی کو ٹویٹر پر پابندی کی وجہ سے امریکا اور فرانس سمیت مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھوں نے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت سے اس پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ترک صدر عبداللہ گل نے بھی حکومت کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر پابندی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت بہت جلد اس پابندی کا خاتمہ کردے گی۔ان کا کہنا تھا کہ''قانونی طور پر انٹرنیٹ اور ٹویٹر ایسے پلیٹ فارمز کو بند کرنا ممکن نہیں ہے''۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے اتحادیوں اور بیٹوں کے خلاف کرپشن اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد ٹویٹر، یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی عاید کرنے کی دھمکی دی تھی کیونکہ ان سائٹس پر حکومت کے خلاف نت روز کہانیاں منظرعام پر آرہی تھیں۔