.

افغان عوام تشدد کے باوجود ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں:نیٹو

کابل میں وزارت داخلہ کے احاطے میں خودکش بم دھماکے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارت داخلہ کے احاطے میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور افغانوں پر زوردیا ہے کہ وہ طالبان کے حملوں کی مزاحمت کرتے ہوئے ہفتے کے روز گھروں سے باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے برسلز میں اتحاد کے وزرائے خارجہ کے دوروزہ اجلاس کے بعد بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میرا افغانستان کے مردو خواتین کے لیے واضح پیغام ہے:الیکشن میں ووٹ ڈالیں کیونکہ صرف آپ ہی کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے''۔

قبل ازیں بدھ کو کابل میں وزارت داخلہ کے کمپاؤنڈ میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں چھے پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔راسموسین نے اپنے بیان میں اس خودکش بم حملے کی مذمت کی ہے اور افغان عوام کی جانب سے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کو سراہا ہے۔

لیکن افغان دارالحکومت کے محفوظ ترین اور انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں بھی طالبان کے خودکش حملے کے تناظر میں ہفتے کے روز پولنگ کے موقع پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اورافغان حکومت کی پولنگ مراکز کو محفوظ بنانے کی صلاحیت کے حوالے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

افغان پولیس کی ایک کمانڈر فریدہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ افغانوں کو اس بات کی تشویش ہوگی کہ جب حکومت اپنے ہی ہیڈکوارٹرز کو محفوظ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے تو وہ پولنگ مراکز کو کیونکر حملوں سے محفوظ رکھ سکے گی اور اس کے انتخابات پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

فوجی وردی میں ملبوس خودکش بمبار متعدد چیک پوائنٹس سے گزرتا ہوا وزارت داخلہ کے گیٹ پر پہنچ گیا تھا اور اس نے وہاں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کے فوری بعد اس کی ذمے داری قبول کر لی تھی۔

ترجمان نے افغان عوام کو خبردار کیا تھا کہ وہ پولنگ مراکز سے دور رہیں کیونکہ ان مراکز اور انتخابی کارکنان کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا۔طالبان مزاحمت کاروں کی جانب سے اس دھمکی کے بعد بھی نیٹو کے سربراہ افغان عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''ہم آپ کے لیے ایک کامیاب الیکشن چاہتے ہیں اور ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اس اہم دن کے موقع پر اپنے ہم وطن مردوخواتین کا تحفظ کریں''۔

واضح رہے کہ افغانستان میں ہفتہ پانچ اپریل کو نئے صدر اور چونتیس صوبائی کونسلوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان انتخابات کے لیے پولنگ سے قبل کابل میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود طالبان جنگجوؤں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے سرکاری دفاتر ،غیر ملکیوں کے زیر استعمال گیسٹ ہاوسز (مہمان خانوں) اور ہوٹلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ منگل کو کابل میں الیکشن کمیشن کے ایک دفتر پر خودکش بم حملہ کیا تھا۔گذشتہ ہفتے دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں واقع قلعہ نما ہوٹل پر طالبان نے بڑی دیدہ دلیری اور بے خوفی سے حملہ کیا تھا جس میں اے ایف پی سے وابستہ ایک صحافی اور ایک انتخابی مبصر سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

طالبان نے گذشتہ اتوار کو شمالی صوبہ سرائے پل میں طالبان مزاحمت کاروں نے صوبائی کونسل کا انتخاب لڑنے والے ایک امیدوار کو اس کے چھے ساتھیوں سمیت اغوا کر لیا تھا اور اسی روز شمالی صوبہ قندوز میں بم دھماکے میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔