.

"امریکا پر ایرانی پرچم لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے"

انقلابی اقدار دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہیں: احمدی نژاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکی وائٹ ہاؤس پر ایرانی پرچم اور شہداء کی تصاویر لہرانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی انقلاب کی قدریں مناسب انداز میں اب دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہیں۔

سابق ایرانی صدر نے ان خیالات کا اظہار جنوب مغربی شہر عبادان میں آٹھ سالہ عراق ۔ ایران جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور جنگ زدہ علاقوں کے شہریوں کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وائٹ ہاؤس پر ایران کا پرچم اور شہدائے انقلاب کی تصاویر نہیں لہرائی جاتیں ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے ایران کی دینی اور ثقافتی اقدار کی اپنی جانوں سے بڑھ کر حفاظت کی۔ ہمارے پاس افراد کا عدیم النظیر ذخیرہ موجود ہے اور اسے بہتر انداز میں استعمال میں لانا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسی جگہ پر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ایک تقریب سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے بھی اپنی تقریر میں عوام الناس سے کہا تھا کہ وہ "انقلاب کی اخلاقی اور دینی قدروں کو اپنی نئی نسل تک پہنچائیں"۔

خیال رہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دوسرے دورے صدارت کے دوران ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ اختلافات کی بنیادی وجہ انٹیلی جنس کی وزارت پر من پسند شخص کی تقرری بنی تھی۔ محمود احمدی نژاد نے اپنی مرضی کا ایک انٹیلی جنس وزیر مقرر کیا تو خامنہ ای نے بر طرف وزیر کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

صدارت چھوڑنے کے بعد محمود احمدی نژاد ایسی تقاریب میں شرکت سے اجتناب برتتے رہے ہیں جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ موجود ہوں۔ اس کے علاوہ موجودہ ایرانی حکومت بھی سابق صدر پر سخت نکتہ چینی جاری رکھے ہوئے ہے۔

حال ہی میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم احمدی نژاد کے چھوڑے ہوئے ملبے کے ڈھیر سے تنکے جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے سابق صدر کی خارجہ پالیسیوں اور عالمی برادری سے تعلقات خراب کرنے پر بھی انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس کے جواب میں محمود احمدی نژاد کے داماد اسفند یار رحیم مشائی نے صدر روحانی کو اپنے پیش رو پر نکتہ چینی کی پاداش میں سخت نتائج کی دھمکی دی۔ فارسی نیوز ویب پورٹل "میدان 72" کے مطابق رحیم مشائی کہ بہ قول احمدی نژادی ایک خاموش آتش فشاں ہیں اور یہ اس سے نکلنے والا لاوا مخالفین کو نگل جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر روحانی اور ان کے حامی علی اکبر ہاشمی رفسنجانی احمدی نژاد کے سانس لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ احمدی نژاد کے خاموش رہنے کی دعا کریں۔ اگر انہوں نے خاموشی توڑی تو پھر بہت بُرا ہو گا۔