.

ایردوآن نے سیاسی مخاصمت ماورا ترکی تک پھیلا دی

خدمت تحریک اور اس کے حامی ادارے انتقامی سیاست کا اہم ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جنگ کو وسعت دیتے ہوئے اب یہ معرکہ افریقا اور ایشیا تک وسیع کر دیا ہے۔

تیس مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں 'فتح' کے علم گاڑنے کے بعد وزیر اعظم ایردوآن اندرون اور بیرون ملک اپنے مخالفین کو زچ کرنے کے لیے زیادہ پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کو دبانے کے لیے سیاسی جنگ کو ملک سے باہر تک پھیلانے کی یہ خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب ایردوآن کو عرب اور مغربی ملکوں میں سیاسی مقبولیت کے گراف میں مسلسل کمی کا بھی سامنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" نے ایردوآن کی سیاسی مخالفین کے خلاف جنگ دوسرے ممالک تک وسیع کیے جانے سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایردوآن، افریقا اور ایشیا کے اپنے حامی ملکوں پر سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایردوآن نواز حکومتوں کے ذریعے ان اداروں کو بندش یا پابندیوں کا سامنا ہے جو ترک حکمراں جماعت کے سیاسی یا نظریاتی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

اس کی ایک تازہ مثال افریقی ملک گیمبیا کے شہر کینفنگ میں 'یافوز سلیم' نامی اسکول کی بندش ہے۔ یہ اسکول میں ایردوآن کے حریف فتح اللہ گولین کی جماعت 'خدمت تحریک' کے تعاون سے چل رہا تھا۔ اس اسکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کو حال ہی میں ایک 'ون لائنر نوٹس' میں بتایا گیا کہ"اسکول کو بند کردیا گیا ہے"۔

خدمت فاؤنڈیشن نے بھی اس واقعے کو ایردوآن کی فتح اللہ گولین کے خلاف سیاسی جنگ کو بیرون ملک منتقل کیے جانے کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ خدمت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اور حکمراں جماعت "عدل و ترقی پارٹی [آق] بیرون اور اندرون ملک تنظیم کو پابندیوں میں جکڑنے کے لیے کوشاں ہے۔ خدمت تحریک کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی ادارے ہی حکومت کا ہدف نہیں بلکہ تنظیم کے تحت کام کرنے والے بنک اور دیگر کئی کنٹریکٹ بھی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

سیاسی مخالفین کے بیرون ملک تعاقب کی دوسری مثال ایشین بنک کی ہے۔ یہ بنک ترکی میں اسلامی بنکاری کے فروغ کے ساتھ ساتھ افریقا اور دوسرے ملکوں میں بھی اپنا وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے۔ خدمت تحریک بھی اس بنک کے ساتھ لین دین کرتی رہی ہے۔ گذشتہ دسمبرمیں جب سے ایردوآن اور فتح اللہ گولین کے درمیان سیاسی رسا کشی نے تقویت پکڑی اس کے بعد سے ترک حکومت نے اس بنک سے غیر معمولی رقوم نکلوا لیں۔ یوں ایشین بنک کو بھی فتح اللہ گولن کی خدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ لین دین کی سزا دی جا رہی ہے۔

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اپنی تقاریر اور بیانات میں متعدد مرتبہ خدمت تحریک کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دے چکے ہیں۔ ایردوآن کا خیال ہے کہ ملک میں ان کی حکومت کی کرپشن کہانیوں کو مبالغہ آمیز حد تک اچھالنے اور ان کے ساتھیوں کو بلیک میل کرنے میں فتح اللہ گولین اور ان کی جماعت کا کلیدی کردار ہے۔ تنظیم کی انہی ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ترکی میں اس کے زیر انتظام چلنے والے اسکول اور دیگر ادارے بند کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب خدمت تحریک وزیر اعظم ایردوآن کے اس دعوے کو مسلسل مسترد کرتی آ رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم، ان کے اہل خانہ اور دیگر مقربین کی بدعنوانی کو اچھالنے، یا عدلیہ اور پولیس میں اپنے حامیوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کے الزامات دراصل ایردوآن کی انتخابی مہم کا حصہ ہیں۔ خدمت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ موجودہ حکمراں جماعت کو پیش آئند اگست میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شکست نوشتہ دیوار دکھائی دے رہی ہے۔ اپنی ممکنہ شکست کے خوف کو چھپانے کے لیے عدل وترقی پارٹی مخالفین کی زبان بندی کے لیے ریاستی میشنری کا استعمال کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ بزرگ ترک مذہبی رہ نما فتح اللہ گولین نے اپنی سرگرمیاں سیاست کے بجائے فروغ تعلیم اور فلاحی مصروفیات تک محدود رکھی ہیں۔ ان کی قائم کردہ "خدمت فاؤنڈیشن" چالیس سال سے اندرون اور بیرون ملک بالخصوص افریقا، مشرق وسطیٰ اور براعظم ایشیا میں سیکڑوں اداروں کا انتظام وانصرام چلا رہی ہے۔ سنہ 2002ء میں جب رجب طیب ایردوآن نے پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا تب فتح اللہ گولین اور ان کی جماعت کی سیاسی وفاداریاں ایردوآن کے ساتھ تھیں، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اپنے انہی ہم خیالوں کو اپنے لیے سیاسی خطرہ بھی سمجھنے لگے۔ مبصرین کے خیال میں خدمت تحریک، وزارت خارجہ اور ترکش ایئر لائن رجب طیب ایردوآن کی بیرون ملک سفارت کاری کے تین ونگز تھے لیکن ان میں سے ایک شعبہ [خدمت تحریک] اب کٹ چکا ہے۔