امن مذاکرات بچانے کی کوششیں، امریکی سفیر بھی متحرک

جان کیری وقت محدود ہونے کا کہہ چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی امن مذاکرات کے سلسلے میں اتوار کو امریکی سفیر مارٹن انڈیک سے ملاقات کریں گے تاکہ امن کے لیے پچھلے سال جولائی سے جاری کوششوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنی انتھک کوششوں میں کل تک مصروف رہے ہیں۔

اس کے بعد ہی جان کیری نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ''امریکا امن مذاکرات کیلیے دستیاب ہے لیکن ہر کام کے لیے وقت اور توانائی کی کچھ حدود ہیں، یہ وقت حقیقت کو جانچنے کا ہے۔''

اسی روز امریکی سفیر نے اسرائیلی مذاکرات کار اور وزیر انصاف زیپی لیونی اور فلسطینی مذاکرات کار صائب ایرکات سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔ اس سے ایک روز پہلے جمعرات کو جان کیری نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنماوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ فریقین کو مزاکرات کی میز پر واپس لاسکیں۔

تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جان کیری کے اصرار کے باوجود وہ درخواست واپس لینے سے انکار کر دیا۔ جس درخواست کے ذریعے فلسطین عالمی فورم اور معاہدات کے تحت معاملات کی بہتری کی کوشش کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی ایسی اپیلیں ماننے سے انکار کر دیا جو امن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلیے مفید ہو سکتی ہیں۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ محمود عباس کی کوشش امن مذاکرات کے صریحا خلاف ہے۔ کیونکہ جب جولائی 2013 میں امن مذاکرات شروع ہوئے تو یہ طے کیا گیا تھا کہ کسی اور فورم سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل پہلے ہی اپنے وعدوں سے انحراف کر چکا ہے حتی کہ فلسطینی اسیران کی رہائی کے وعدے سے بھی مکر گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں