.

بھارت:اجتماعی عصمت ریزی کے تین مجرموں کو سزائے موت

مجرموں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے تو پھر کس کیس میں دی جائے گی:جج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ایک عدالت نے تجارتی شہر ممبئی میں گذشتہ سال ایک فوٹو جرنلسٹ کی اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ میں ملوث تین مجرموں کو سزائے موت سنا دی ہے۔

بھارت میں عصمت ریزی کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو پہلی مرتبہ تعزیرات ہند کی ترمیم شدہ دفعہ 376 (ای) کے تحت سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔اِس دفعہ کے تحت ایسے مجرموں کو سزائے موت دی جاسکتی ہے۔اس نئے متعارف کردہ قانون کے تحت مجرموں کو عدالت میں نقاب پہنا کر پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ دسمبر 2012 ء میں دہلی میں اجتماعی عصمت ریزی کے کیس کے بعد مجرموں کو کڑی سزائیں دلانے کے لیے تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات میں ترمیم کی گئی تھی اور نئی ترمیم شدہ دفعہ کے تحت اس جرم کی کم سے کم سزا موت ہے۔ممبئی کے اس مقدمے میں اس کا پہلی مرتبہ اطلاق عمل میں لایا گیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق مجرموں نے ایک فیکٹری کے احاطے میں گذشتہ سال اگست میں ایک فوٹو جرنلسٹ کی اجتماعی عصمت ریزی کی تھی۔انھوں نے ایک ٹیلی فون آپریٹر کی بھی عزت تار تار کی تھی اور اس جرم میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ممبئی کی سیشن عدالت کے جج شالینی پنسلکر جوشی نے تین مجرموں 19سالہ وجئے جادھو ،21 سالہ قاسم بنگالی اور 28 سالہ محمد سلیم انصاری کو سزائے موت دیتے ہوئے یہ استفسار کیا کہ اِس کیس میں اگر اِنھیں سزائے موت نہ دی جائے تو پھر کس کیس میں دی جائے گی۔

انھوں نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ'' مجرموں کو ان کی سانس اکھڑنے تک پھانسی پر لٹکادیا جائے۔ جنسی ہراسانی سماج کی لعنت بن چکی ہے۔ایسی گھناؤنی حرکت کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں اور ایک جج کو انصاف کی تلوار استعمال کرتے وقت پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے۔ جب کیس کا تقاضا ہی ایسا ہو تو جج بھرپور انصاف سے کام لے سکتا ہے''۔

اس کیس میں ملوث چوتھے ملزم سراج رحمٰن کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ جج جوشی نے دیگر چار ملزموں کے خلاف بھی مختلف سزاؤں کا اعلان کیا اور اِن پر جرمانے بھی عاید کیے ہیں۔جج نے کہاکہ ''ملزموں نے ایک مجبور لڑکی کے ساتھ کوئی رحم دلی نہیں دکھائی اور ہم بھی انھیں موت کی سزا دینے میں کوئی رحم سے کام نہیں لیں گے۔ اگر ہم اِنھیں سخت ترین سزا نہ دیں تو عدلیہ پر سے ایک عام آدمی کا ایقان اُٹھ جائے گا''۔

انھوں نے کہا کہ'' عام آدمی انصاف کی زبان کی ستائش کرتا ہے۔ اِس طرح کے گناہوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ گھناؤنے جرائم سے سختی سے نمٹنا ہی عدلیہ کا کام ہے۔ اگر رحم دلی کا مظاہرہ کیا گیا تو ہمدردی کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے اور پھر انصاف کا گلا گھونٹ دیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ ممبئی میں اجتماعی عصمت ریزی کے دو واقعات پیش آئے تھے اور مجرموں نے ایک ٹیلی فون آپریٹر خاتون اور ایک فوٹو جرنلسٹ کی اجتماعی ریزی کی تھی۔یہ دونوں واقعات ممبئی کے وسط میں واقع شکتی ملز کے احاطے میں چند ہفتوں کے اندر پیش آئے تھے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اجتماعی عصمت ریزی کے گھناؤنے جرم کے مرتکبین کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

یادرہے کہ دسمبر 2012ء میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کی اجتماعی عصمت ریزی کا سنگین واقعہ رونما ہوا تھا جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔اس واقعہ کے بعد خواتین سے ناروا سلوک اور ان پر جنسی تشدد کے خاتمے کے لیے نئے قانون کی منظوری دی گئی تھی لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود حکومت کو خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات کی روک تھام میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔