دہشت گردی منصوبے بنانے کے الزام میں 25 یوکرینی گرفتار

برطانیہ کا روس پر مزید پابندیاں لگانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی سیکیورٹی فورسز نے ملک میں دہشت گردی کے منصوبوں کے الزام میں پچیس یوکرینی باشندوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ گرفتاریاں گذشتہ مہینے جزیرہ نما کریمیا کی یوکرین سے علاحدگی اور روس کے ساتھ الحاق کے لیے ریفرنڈم کے موقع پر عمل میں لائی گئی تھیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والوں میں یوکرین کی شدت پسند قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جو روس کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماسکو حکام کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے افراد کریمیا سے علاحدگی کے بعد روس سے انتقام لینا چاہتے تھے، جنہیں یوکرینی حکومت کی آشیر باد حاصل تھی۔

دوسری جانب یوکرین نے ماسکو کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ کیف حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماسکو کا یہ الزام قطعی بے بنیاد ہے کہ ہم نے روس میں عدم استحکام پیدا کرنے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے دسیوں افراد کو تربیت دے کر ماسکو روانہ کیا تھا۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے متحارب فریقین پر افہام و تفہیم کے ذریعے تنازعات حل کرنے پر زور دیا ہے۔

ادھر برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے یوکرین کی ما بعد انقلاب صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں سے فوجوں کی واپسی محض علامتی ہے۔ اس لیے میں یورپی یونین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر یوکرین کا بحران زیادہ شدت اختیار کرتا ہے تو یونین روس کے خلاف تیسرے مرحلے کی پابندیوں کا اعلان کر دے۔

یوکرین کے سیاسی بحران کے اقتصادی بحران بھی مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے یوکرین کے قرضوں کا ایک درجہ اور بڑھا کر "سی آئی آئی 2" سے "سی آئی آئی 3" کر دیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں ایجنسی کے اس اقدام سے یوکرین کا اقتصادی بحران مزید گھمبیر شکل اختیار کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ پرسوں جمعرات کو روسی حکومت نے کہا تھا کہ وہ پیش آئند ایام میں کیف کو گیس کی مد میں دی جانے والی اعشاریہ آٹھ صفر چھوٹ واپس لینے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں