.

حجاز میں یہودیوں کے "قومی وطن" کی خونی تجویز کا انکشاف

الاحساء پر قبضے کے لیے جنجگوؤں کی مدد سے حملے کا منصوبہ تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر دنیا بھر میں منتشر یہودیوں کو ایک قومی وطن میں یکجا کرنے کی تجاویز اور سازشوں کے تانے بانے بنے جانے لگے تھے۔ اس ضمن میں بااثر یہودیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں۔

سنہ 1917ء میں برطانیہ نے ایک سازش کے تحت سر زمین فلسطین پر یہودیوں کے لیے قومی وطن کا اعلان کیا۔ اُنہی تجاویز میں روسی نژاد ایک یہودی ڈاکٹر ایم ۔ ایل۔ روز چائن نے فرانس میں متعین برطانوی سفیر لارڈ فرنس پیرٹی کو ایک مکتوب کے ذریعے سر زمین حجاز میں "یہودیوں کے قومی وطن" کی تجویز پیش کی تھی۔

لندن کی برٹش لائبریری نے یہ مکتوب صیغہ راز میں رکھا۔ لائبریری کی جانب سے حال ہی میں یہ مکتوب ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے ملنے والے اس مکتوب میں شدت پسند یہودی ڈاکٹر ایم، ایل روز چائن نے سعودی عرب کے شہر الاحساء کو یہودی ریاست بنانے کی تجویز دی تھی۔ مسٹر روز چائن نے تجویز کے ساتھ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار یہودی جنگجو فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا۔ اس نے تجویز دی کہ یہودی جنگجو بحرین کے راستے "الاحسا"ء پر حملہ آور ہوں گے اور چار لاکھ 30 لاکھ مربع کلو میٹر پرپ ھیلے اس شہر پر دنوں کے اندر قبضہ کرلیا جائے گا۔

ڈاکٹر روز چائن کا یہ مکتوب حال ہی میں برٹس لائبریری کی ویب سائٹ پرشائع ہوا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مکتوب کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے۔ ٹائپ رائیٹر سے لکھا گیا مکتوب واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ خط لکھنے والے یہودی سفیر کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکیں۔

بارہ ستمبر کو اسی مکتوب کی ایک کاپی سفیر لارڈ فرانسیس پیرٹی نے بھی وزیر خارجہ جیمز بلفور کو ارسال کی۔ اس مراسلے کے سات ہفتے بعد بالفور نے فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کا اعلان کیا جو بعد میں" اعلان بالفور" کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ مکتوب اس وقت لکھا گیا تھا جب سر زمین حجاز ترک خلاف عثمانیہ کے زیر نگیں تھا اور الاحساء کو ایک ریاست کا درجہ حاصل تھا۔

سر زمین حجاز میں یہودی مملکت کے قیام کی تجویز پیش کرنے والے یہودی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا جنگ عظیم اول میں برطانیہ اپنے دوست اور اتحادی ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر خلیج میں یہودی ریاست قائم کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ذاتی طور پر آئندہ موسم بہار تک لاکھ ایک لاکھ بیس ہزار جنگجو بھی فراہم کرے گا۔ اس نے خود ہی یہ اعتراف بھی کیا کہ تجویز پر عمل درآمد ایک پیچیدہ کام ہو گا لیکن جب ایک ہزار جنگجو الاحساء میں داخل ہو جائیں گے تو پورے شہر پر قبضہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

روزن چائن کا کہنا تھا کہ اس کے تیارکردہ جنگجو مختلف مراحل میں بحرین پہنچیں گے۔ جب ان کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ جائے گی تو ریاست الاحساء پر حملہ کر دیا جائے گا۔ یہودی جنگجو ریاست میں داخل ہوتے ہی ترک فوج کے تمام ٹھکانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اور ترک فوجوں کو حواس بحال کرنے کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔

تین اکتوبر 1917ء کو برطانوی وزیر خارجہ جیمز بالفور کے سیکرٹری نے سفیر لارڈ بیرٹی کے نام مکتوب ارسال کیا۔ اس مراسلے میں وزیر موصوف نے الاحساء کو یہودی ریاست بنانے کی تجویز پر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ ہی اسے عملی شکل میں دینے سے معذرت کی۔

مکتوب میں کہا گیا کہ الاحساء کو یہودی ریاست بنانے کی تجویز پیش کرنے والے ڈاکٹر روزچائن کو یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ برطانیہ جلد ہی یہودیوں کے قومی وطن کا اعلان کرنے والا ہے۔ دو نومبر 1917ء کو آرتھر جیمز بالفور نے لارڈ روچیلڈ کو ایک مکتوب میں سر زمین فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے لیے بالفورڈ ڈیکلریشن" کے جلد اعلان کا وعدہ کیا۔ لارڈ بالفورڈ روزچائن کی تجویز کا بھی ذکر کیا اور ساتھ ہی بتایا کہ اس نے حجازمیں یہودی ریاست کی تجویز قبول نہیں کی۔

الاحساء یہودی ریاست کیوں؟

سعودی عرب کے ممتاز مؤرخ جواد الرمضان نے الاحساء میں یہودی ریاست کے قیام کی تجاویز پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزن چائن نے برطانوی سفیر کو جو مکتوب لکھا اس کی بازگشت یورپ میں بھی سنی گئی۔ اس تجویز کا تاریخی پس منظر الاحساء میں یہودیوں کے وجود سے مربوط ہے۔ انیسویں صدی میں یہودیوں میں یہ مشہور ہوا تھا کہ جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔ اس کے علاوہ 1871ء میں یہودیوں کی بڑی تعداد وہاں منتقل ہو گئی تھی۔

جواد الرمضان کے مطابق ترک عثمانی خلافت کے دوران مدحت پاشا کو الاحساء کی تعمیرو ترقی کا کام سونپا گیا۔ ان کے دور میں عراق سے یہودیوں کی بڑی تعداد الاحساء منتقل ہوئی، جن کے وجود کےآثار بہت بعد تک رہے۔ ان میں الہفوف شہرمیں "داؤود یہودی" پارک بہت بعد تک رہا لیکن اب آبادی زیادہ پھیل جانے سے اس کےآثار ختم ہو چکے ہیں۔

سنہ 1913ء میں شاہ سعود کی حکومت کے قیام کے وقت بھی یہودی الاحساء میں فطری انداز میں زندگی گذار رہے تھے۔ سعودی حکومت کےقیام کے بعد یہاں کے یہودی رضاکارانہ طور پر عراق کے شہروں بصرہ، بغداد اور بحرین کے منامہ میں منتقل ہو گئے اور کچھ نے ترکی کو اپنا مستقل وطن بنایا۔ اس لیے اس شہر سے یہودیوں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔