.

مصر میں قبائلی تصادم میں 23 افراد ہلاک

تنازع کی وجہ ایک لڑکی بتائی جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے جنوبی ضلع اسوان میں دو قبائل کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے نتیجے میں کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور کئی مکانات بھسم ہو گئے ہیں۔ حالات بے قابو ہونے کے بعد شورش زدہ علاقے فوج تعینات کی گئی ہے اور نگراں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھی علاقے کا دورہ کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق اسوان کے قبیلوں النوبہ اور الھلائل کے طلباء کے درمیان کسی لڑکی کی بنیاد پر تنازع پیدا ہوا جو بالآخر مسلح تصادم پر منتج ہوا۔ پہلے روز پولیس نے کارروائی کرکے دونوں قبائل سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور قبائلی عمائدین سے کہا کہ وہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے رفع دفع کریں۔

جمعہ اور ہفتہ کے روز دونوں قبائل کے نوجوانوں نے پھر ایک دوسرے پر بندوقیں تان لیں اور دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں مزید سولہ افراد مارے گئے۔ قبائلی بلوائیوں نے اپنے اپنے مخالفین کے گھروں پر پٹرول بموں سے بھی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد مکانات بھی جل کر خاکستر ہو گئے۔

حالات پر قابو پانے کے لیے دونوں قبائل کے گھروں کے آس پاس فوج اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور قبائلی عمائدین سے ایک مرتبہ پھر معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم انجینیئر ابراہیم محلب، وزیر داخلہ میجر جنرل محمد ابراہیم اور وزیر برائے لوکل ڈویلمپنٹ میجر جنرل عادل لبیب بھی اسوان ہوائی اڈے پہنچے ہیں، جہاں وہ آج [بروز اتوار] اسوان کے گورنر میجر جنرل مصطفیٰ یسری سے ملاقات کے دوران خونریز تصادم پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔