.

شام میں برسرپیکار غیرملکی جنگجو یورپ کے لیے خطرہ!

حربی تجربے کے حامل جنگجو یورپی سرزمین پر حملے کر سکتے ہیں:ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار ہزاروں غیرملکی جنگجو یورپ کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور ان میں سے یورپی جنگجو اپنے اپنے ممالک میں لوٹنے کے بعد وہاں دہشت گردی کے حملے کرسکتے ہیں۔

رائے نما اس خدشے کا اظہار عسکری اور انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے برطانیہ کے موقر روزنامے دی انڈی پینڈینٹ کے ساتھ گفتگو میں کیا ہے۔سکیورٹی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینیر ریسرچ فیلو رافیلو پینٹوچی نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''شام میں میدان جنگ سے یو کے کے لیے ایک قسم کا خطرہ ناگزیر لگ رہا ہے اور برطانیہ کی سکیورٹی سروسز پہلے ہی شام سے متعلق دہشت گردی کی ایک سازش ناکام کرچکی ہیں''۔

ماہرین کا کہنا ہے شام میں حربی تجربہ حاصل کرنے والے بہت سے جنگجو سخت گیر بن کر اپنے ملکوں کو لوٹ سکتے ہیں اور وہ یورپی سرزمین پر حملے کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار گلز ڈی کرچوو نے اس خطرے کو ''بے مثال''قرار دیا ہے۔انھوں نے برطانیہ کے داخلہ امور کی سلیکٹ کمیٹی کی ایک انکوائری کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ''میں نے جو بھی رپورٹس دیکھی ہیں،ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرہ ناگزیر بنتا جارہا ہے''۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ''یورپی یونین کے رکن ممالک انسداد دہشت گردی کے لیے بجٹوں میں کمی کی جارہی ہے جبکہ ہمیں درپیش خطرہ زیادہ متنوع اور زیادہ ناقابل پیشین گوئی بنتا جارہا ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ خطرہ صرف شام سے لاحق نہیں ہے بلکہ براعظم افریقہ سے بھی جہادیوں کی واپسی تشویش کا سبب ہے اور دہشت گردی کا خطرہ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔انھوں نے یورپی حکومتوں پر زوردیا ہے کہ وہ ان جگہوں کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بننے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے انسداد دہشت گردی کے سابق سربراہ رچرڈ بیرٹ نے شام میں بڑی تعداد میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا یہ مطلب ہے کہ ان کو مانیٹر کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ شام سے واپس آنے والے افراد کی گرفتاری اور پولیس کی جانب سے سخت سلوک سے لوگ سخت گیر ہوسکتے ہیں۔ان کے بہ قول انھوں نے ایک چیف کانسٹیبل کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان افراد کو بند کردیا جانا چاہیے۔میرے خیال میں انھوں نے پہلے ہی شام سے واپس آنے والے سولہ مشتبہ افراد کو گرفتار کررکھا ہے۔ممکن ہے ان کی گرفتاری کی کوئی جائز وجہ بھی ہو لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں''۔