.

عالمی طاقتوں سےویانا میں بات چیت مفید رہی ہے:ایران

ایرانی وزیرخارجہ اور کیتھرین آشٹن کے درمیان مذاکرات کا نیا دور منگل اور بدھ کو ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ویانا میں اپنے جوہری پروگرام کے تنازعے سے متعلق تمام تیکینکی امور کو طے کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کے ساتھ ماہرین کی سطح کی بات چیت کو مفید قراردیا ہے۔

ایران کے مذاکرات کار حامد بعید نجاد نے سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کو بتایا ہے کہ ''ویانا میں تین روزہ ملاقات مفید رہی ہے اور اس میں تیکنیکی ایشوز کے حوالے سے فریقین کے الگ الگ موقف پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ہر کوئی اچھی تیاری کرکے آیا تھا اور تیکنیکی امور طے ہونے کی صورت میں مشکل سیاسی فیصلوں میں مدد ملے گی''۔

ایران کے مذاکرات کار وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کو سوموار کو اس ملاقات کے نتائج سے آگاہ کریں گے اور چھے بڑی طاقتوں کے نمائندے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کو ایرانی مذاکرات کاروں سے ہونے والی سے بات چیت کی تفصیل سے آگاہ کریں گے۔

کیتھرین آشٹن اور جواد ظریف کے درمیان اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات 8 اور 9 اپریل کو ویانا میں ہوں گے اور ان میں جولائی تک ایران کے جوہری تنازعے سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس ممکنہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کی افزدوگی سے کی تمام سرگرمیوں کو محدود کردے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عاید اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔

درایں اثناء ایرنا کی ایک اور اطلاع کے مطابق ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ''تمام تیکنیکی ایشوز کے گہرے ماہرانہ مطالعے کی ضرورت ہے۔ان میں اراک میں واقع بھاری پن کا ری ایکٹر بھی شامل ہے اور اس کو حالیہ بات چیت میں طے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن یورینیم کی افزودگی اور دوسرے حساس ایشوز پر حتمی سمجھوتے تک بات چیت جاری رہے گی''۔

تاہم بعض مغربی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے سے متعلق فریقین میں وسیع اختلافات پائے جاتے ہیں۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ہفتے کے روز اطلاع دی تھی کہ چھے بڑی طاقتوں (امریکا،برطانیہ ،روس ،فرانس ،چین اور جرمنی) اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے کے حتمی مسودے کی تیاری کا کام آیندہ ماہ شروع ہوجائے گا۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام پر قدغنوں سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر جنوری سے عمل درآمد ہورہا ہے اور جولائی میں یہ ختم ہوجائے گا۔اس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کیا ہے۔اس کے بدلے میں اس پر عاید مغربی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور اس کو چھے ماہ کی مدت میں اس کی غیرمنجمد کی گئی چار ارب بیس کروڑ ڈالرز کی رقم اقساط کی شکل میں دی جارہی ہے۔