.

آبنائے ہرمز میں پاک، ایران بحریہ کی مشترکہ مشقیں

مشترکہ مشقوں کا مقصد دو طرف تعاون بڑھانا ہے: شہرام ایرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور ایران کی بحری افواج آبنائے ہرمز میں مشترکہ جنگی مشقیں کریں گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے بحری جنگی جہاز اور سب میرینز ہفتے کے روز ہی آبنائے ہرمز میں پہنچ چکی ہیں جہاں وہ تیل کی ترسیل اور برآمد کی ایک اہم عالمی راستے سے متصل مشترکہ جنگی مشقوں کا حصہ بنیں گی۔

ایران اور پاکستان کے درمیان بظاہر ان دنوں سفارتی اعتبار سے حالیہ پانچ برسوں جیسی قربت نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اہم عالمی سمندری راستے کے قریب دونوں ملکوں کی بحریہ کا اکٹھے مشقیں کرنا اہم واقعہ ہے۔ دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شئیرنگ اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے دو طرفہ تعاون پر محیط سکیورٹی معاہدے کی منظوری دی ہے۔ یہ معاہدہ پچھلے کئی ماہ سے ایرانی پارلیمنٹ میں زیر بحث تھا۔

پاکستان اور ایران کی مشرکہ بحری مشقوں کے حوالے سے ایرانی بحریہ کے رئیر ایڈمرل شہرام ایرانی کا کہنا ہے کہ '' ان مشقوں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانا ہے۔'' تاہم انہوں نے اس دو طرفہ تعاون بڑھانے کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

واضح رہے دنیا کے لیے ایک تہائی تیل کی ترسیل اور برآمد کے اس راستے کو محفوظ بنانے کیلیے امریکا اور مغربی ممالک کی بحری افواج کا اس علاقے میں گشت بھی معمول کا حصہ ہے، تاہم پاک ایران مشقیں ایک اہم پیش رفت ہے۔