.

لیبیا:حکومت اور باغیوں میں دوبندرگاہیں کھولنے سے اتفاق

بندرگاہوں کے کھلنے سے لیبیا کی خام تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت اور باغیوں نے مشرقی علاقے برقہ میں واقع دوبندرگاہوں کو کھولنے سے اتفاق کیا ہے اوران کے ذریعے اب قریباً دولاکھ بیرل خام تیل روزانہ برآمد کیا جا سکے گا۔

باغیوں نے گذشتہ آٹھ ماہ سے الزويتينة اور الحريقة کی بندرگاہ قبضہ کررکھا ہے۔سمجھوتے کے مطابق ان دونوں چھوٹی بندرگاہوں کو اتوار سے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔لیبیا کے وزیرانصاف نے کہا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ دو بڑی بندرگاہوں راس لانوف اور الصدر کو باغیوں کے ساتھ بات چیت کے بعد آیندہ دوسے چار ہفتوں میں کھول دیا جائے گا۔

وزیرانصاف صلاح المرغانی نے حکومت اور باغیوں کے درمیان سمجھوتے کے حوالے سے کہا ہے کہ '' الزويتينة اور الحريقة کی بندرگاہ کو ریاست کے حوالے کردیا جائے گا۔مظاہرین پر ان دونوں بندرگاہوں کی جانب لوٹنے اور کام میں مداخلت پر پابندی ہوگی''۔

اس سمجھوتے کی مکمل تفصیل فوری طور پر منظرعام پر نہیں آئی ہے لیکن اس سے لیبیا کی کمزور حکومت کی عمل داری میں اضافہ ہوگا اور اس کو تقویت ملے گی۔اس کی تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور اس سے اس کو خاطر خواہ مالی فائدہ ہو گا۔

لیبیا کی ان دونوں بندرگاہوں کے دوبارہ کھلنے سے لیبیا کی خام تیل کی برآمدات ڈیڑھ لاکھ بیرل یومیہ سے بڑھ کر ساڑھے تین سے چار لاکھ بیرل یومیہ ہوجائیں گی لیکن اس کے باوجود لیبیا کی تیل کی برآمدات گذشتہ سال موسم گرما کی سطح سے کہیں کم ہوں گی۔گذشتہ سال سابق باغی لیڈر ابراہیم جثران کے وفادار جنگجوؤں نے تین بندگاہوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے لیبیا کی تیل کی برآمدات کی مقدار انتہائی کم ہوکر رہ گئی ہے۔

لیبیا مشرقی علاقے البرقہ سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے کل چار بندگاہوں پر قبضہ کیا تھا اور وہ اپنے علاقے کو لیبیا کے وفاق کے تحت زیادہ خود مختاری دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ان بندرگاہوں کی بندش سے لیبیا کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

لیبی حکومت اور وفاق پسند باغیوں کے درمیان گذشتہ ماہ شمالی کوریا کے پرچم بردار بحری جہاز پر تیل لاد کر بھیجے جانے کے بعد بحران کے حل کے لیے بات چیت شروع ہوئی تھی۔باغی کمانڈر ایک بندرگاہ سے شمالی کوریا کے بحری جہاز میں تیل لاد کر بین الاقوامی پانیوں میں روانہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن امریکی کمانڈوز نے اس بحری جہاز کو گھیرے میں لے کر واپس بھیج دیا تھا اور اس پر لیبیا کی بحریہ نے قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی کمانڈوز کی اس کارروائی سے لیبی باغیوں کا حکومت سے ماورا تیل کو عالمی مارکیٹ میں بیچنے کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا تھا اور وہ حکومت سے مذاکرات پر مجبور ہوگئے تھے۔