.

لیبیا میں "دستوری بادشاہت" بحال کی جائے: وزیر خارجہ

وفاقی ریاست کے قیام کے لیے سنہ 1951ء کے آئین کی بحالی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیر خارجہ محمد عبدالعزیز نے ملک میں دستوری بادشاہت کے دوبارہ قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بادشاہت کے قیام کی جدوجہد کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی گئی تو اسے اٹھانے کو تیار ہوں۔

اخبار"الحیاۃ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیبی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں ملک میں آمرانہ بادشاہت نہیں چاہتا بلکہ ایک ایسی 'آئینی بادشاہت' جس کے اختیارات محدود ہوں لیکن وہ ملک کے تمام طبقات کے لیے ایک چھتری کا کردار ادا کرے۔ میں اگر لیبیا میں وزیر نہ بھی ہوتا تب بھی ایک شہری کی حیثیت سے یہ مطالبہ کرنا میرا حق تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کے اپنے اپنے اختیارات ہوتے ہیں۔ جنرل پیپلز کانگریس [پارلیمنٹ] ایک با اختیار ادارہ ہے لیکن یہ ادارہ بھی اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگا ہے۔ ایک شہری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ میں حکومت اور پارلیمنٹ کو اختیارات سے تجاوز کرنے پر آواز اٹھاؤں۔

بادشاہت: ایک نمائشی ادارہ

اپنے انٹرویو میں وزیر خارجہ محمد بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس وقت بھی بادشاہت کے مختلف نظام رائج ہیں۔ میں نمائشی بادشاہی نظام کی بات کرتا ہوں جس میں بادشاہ کے اختیارات محدود ہوں۔ لیکن پوری قوم اس کے ارد گرد اکھٹی ہو جائے اور بادشاہت کا ادارہ قوم کے لیے "سیاسی چھتری" کا کردار ادا کرے۔ اس بادشاہی نظام میں بھی پارلیمنٹ ہی مضبوط اور با اختیار ادارہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو دو ایوانوں [قومی اسمبلی اور سینٹ] میں تقسیم کیا جائے۔ متحرک وزیر اعظم کی نگرانی میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت قائم ہو اور حکومت کے ساتھ ساتھ ایک حقیقیی اپوزیشن بھی اپنا کرادار ادا کرے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "میں ملک میں فرد واحد کی حکمرانی کی بات نہیں کرتا کہ بادشاہ سلامت کا فیصلہ حرف آخر بن جائے۔ میں اس بادشاہت کی بات کرتا ہوں جو اس وقت برطانیہ، بیلجیئم اور اسپین جیسے ملکوں میں رائج ہے۔ وہاں بادشاہی نظام با اختیار نہیں لیکن پوری قوم کو باہم مربوط رکھنے کا ایک قابل احترام ادارہ ہے۔ ہم بھی ایسا ہی نظام چاہتے ہیں۔

اسی ضمن میں لیبی وزیر خارجہ نے سنہ 1951ء کے دستور کو اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ انیس سو اکیاون کے آئین میں ملک کو تین صوبائی اکائیوں [طرابلس، برقہ اور فزان] پر مشتمل ایک وفاقی ریاست کا درجہ حاصل تھا۔ انہوں نے شاہ ادریس کے دور میں سنہ 1963ء میں ترمیم شدہ آئین کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ اس میں ریاست کی وفاقی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں لیبی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا ملک بدترین عدم استحکام سے گذر رہا ہے۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے ملک کو ایک مضبوط وفاقی ریاست بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ایک وفاقی ریاست ہی کے تحت قبائلی تنازعات کا خاتمہ ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں بادشاہی نظام کی واپسی کے لیے لیبیا کے مرحوم بادشاہ الحسن الرضی السنوسی کے ولی عہد فرزند محمد السنوسی سے اور بیرون ملک شہریوں سے بھی بات کی ہے۔ وہ بھی ملک میں نمائشی بادشاہت کی بحالی کے حامی ہیں۔ میں ملک میں بادشاہت کے قیام کے لیے پرعزم ہوں چاہے حکومت میں رہوں یا نہ رہوں۔ بادشاہت کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھوں گا۔

انقلابیوں کے مسائل

قبل ازیں پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لیبی وزیر خارجہ محمد عبدالعزیز نے سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے استبدادی نظام حکومت کے خاتمے میں مدد فراہم کرنے والے انقلابی کارکنوں کی محرومیاں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پارلیمنٹ بعض انقلابی کارکنوں اور ان کے قائدین کو محروم کرنا چاہتی ہے جس کے سنگین مضمرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ نفاذ قانون کی خاطر پارلیمنٹ انقلابی کارکنوں، عدلیہ اور انتظامیہ کو باہم مربوط کرے۔ جب ملک میں باضابطہ فوج اور پولیس تشکیل دی جائے تو انقلابیوں کو ان دونوں اداروں میں شمولیت کے لیے خوش آمدید کہا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کے انقلابی کارکن ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ یہ خائن نہیں، ہمیں ان کی قربانیوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک نئی ریاست اور قانون کی بالادستی کی خاطر جابر اور ظالم سلطان کےخلاف ہتھیار اٹھائے۔ اگر یہ لوگ ایک نیا لیبیا نہ دیکھنا چاہتے تو حکومت وقت کے خلاف ہتھیار کبھی نہ اٹھاتے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے ایک رکن پارلیمنٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ انقلابی کارکنان اور قائدین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی مجاز نہیں۔ ریاست کی تعمیرو ترقی اور فوج پولیس جیسے اداروں کے قیام میں انقلابی اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے قومی خزانے سے انقلابی کارکنوں اور فیلڈ میں موجود ان کے رہ نماؤں کی مدد کرنے کی حمایت کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہر فیلڈ کمانڈر کی پشت پر اس کے ہزاروں جانثار کھڑے ہیں۔ یہی حقیقی انقلابی کارکن ہیں۔ جب آپ ان سے بحری، بری اور فضائی گذرگاہوں کی نگرانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کے عوض ان کی مالی مدد ان کا حق ہے۔