ایران نواز یمنی شدت پسندوں کا جارجانہ منصوبہ طشت ازبام

جنوبی یمن کی علاحدگی کی تحریک کے بیس سال مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن کے سیکیورٹی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے جنوبی علاقے میں سرگرم ایران نواز حوثی شیعہ شدت پسندوں اور علی البیض کی نگرانی میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں نے رواں سال ایک نئی جارحیت کی منصوبہ بندی کی ہے۔

صنعاء کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایران نواز حوثی عسکریت پسند گروپوں نے 2014ء کے دوران اپنی جارحیت میں غیر معمولی تیزی لانے کی اسکیم تیار کی ہے۔ خفیہ اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ حوثی علاحدگی پسند سنہ 1994ء میں شروع ہونے والی اس تحریک کو بیس سال بعد وسیع پیمانے پر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ 20 سال پہلے 1994ء میں جنوبی یمن میں باغیوں نے علاحدگی کی تحریک شروع کی تھی۔ 18 جون 2004ء کو عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے دس سال پورے ہونے پر یمنی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان خونریز جنگ چھڑ گئی تھی۔ آئندہ جون میں اس تحریک کو بیس سال مکمل ہونے والے ہیں۔

یمنی سیکیورٹی ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی یمن کے ایران نواز شدت پسندوں نے اپنی جارحانہ حکمت عملی پر عمل درآمد کے لیے ماضی کی طرح بڑے بڑے عوامی مظاہرے، ملین مارچ، حکومتی اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ماضی میں بھی علاحدگی پسند حوثیوں کے فوج کے ساتھ تصادم کے سیکڑوں واقعات میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں فوج، عسکریت پسند گروپوں کے جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حوثیوں نے 27 اپریل کو عوامی مظاہروں کے ساتھ فوجی اور حکومتی تنصیبات پر حملوں کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ یہ مظاہرے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے 27 اپریل 1994ء کو ہونے والے ایک خطاب کی یاد میں منعقد کیے جائیں گے۔ بیس سال قبل کی جانے والی اس تقریر کو حوثیوں نے اپنے خلاف "اعلان جنگ" قرار دیا تھا۔

سابق صدر کی اس تقریر کے بعد 04 مئی 1994ء کو جنوبی یمن میں بڑے بڑے جلوس نکالے گئے تھے۔ اس کے بعد 21 مئی کو علاحدگی پسند رہنما علی البیض نے باضابطہ طور پر جنوبی یمن کی علاحدگی کے لیے مُسلح تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان یمن کی وحدت کے حوالے سے قومی دن 22 مئی سے ایک روز قبل کیا گیا تاکہ صدر علی صالح اور ان کے حامیوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یمن کو متحد رکھنے کا خواب پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن کے عسکریت پسند حوثی قبائل اپنی تحریک میں شدت صرف پرامن مظاہروں تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ فوج، سیکیورٹی اداروں، پولیس مراکز حکومتی تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔

مبصرین کے خیال میں یمن میں علاحدگی پسند حوثی اپنی بغاوت کی تحریک کے بیس سال پورے ہونے پر عوامی اور عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ جنوبی یمن میں وادی الجوف، عمران، الصعدہ اور دارالحکومت صنعاء میں بھی فوج اور حوثیوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں فریقین کا بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔

یمنی حکومت جنوبی علاقوں میں علاحدگی پسندی کی تحریک پر ایران کو مورد الزام ٹھہراتی آ رہی ہے۔ دو ماہ قبل یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ایران کا نام لے کر کہا تھا کہ تہران، یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی گھناؤنی سازشوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں