یوکرین کے دو شہروں میں روس نوازوں کا اعلان آزادی

یوکرینی وزیراعظم کا روسی وفاق پر ملک کی وحدت کو نقصان پہنچانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے حصے بخرے ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے شمال مشرقی شہر خارکیف اور مشرقی شہر دانتسک میں روس نواز علاحدگی پسندوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے اعلان آزادی کردیا ہے۔

سوموار کو روس نواز کارکنان نے دانتسک میں مرکزی انتظامی عمارت پر قبضہ کر لیا اور اس کو کیف کی عمل داری سے آزاد عوامی جمہوریہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔روس نوازوں نے اس انتظامی عمارت پر قبضہ کررکھا ہے اور ان کے ایک ترجمان نے اس عمارت سے باہر آکر صحافیوں کو خودمختار ریاست جمہوریہ دانتسک کے قیام کی ''نوید'' دی ہے۔

مشرقی صنعتی علاقے کی ایک نیوز ویب سائٹ اوسٹروف کی اطلاع کے مطابق اس کے بعد کارکنان نے روسی وفاق میں شامل ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔قبل ازیں گذشتہ ماہ روس کے جزیرہ نما علاقے کریمیا کی اسمبلی نے اسی انداز میں پہلے اعلان آزادی کیا اور پھر ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد میں اس کو روسی وفاق میں شامل کردیا گیا تھا۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق دانتسک کی علاقائی خودمختاری کے لیے 11 مئی کو ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

درایں اثناء یوکرینی وزیراعظم آرسینیے یاتسینیوک نے روس پر اپنے ملک کے حصے بخرے کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مظاہرین پر علاقائی سرکاری عمارتوں پر قبضے کے لیے حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت کیف میں سرکاری حکام کے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ''یوکرین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور غیرملکی فورسز کو سرحد عبور کرکے یوکرینی علاقے میں داخل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ ان علاقوں کو ہتھیایا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ تمام منظرنامہ روسی وفاق نے تحریر کیا ہے اور اس کا واحد مقصد یوکرین کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا ہے''۔قبل ازیں یوکرین کے وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مشرقی شہر خارکیف میں ایک سرکاری عمارت پر قبضہ کرنے والے روس نواز مظاہرین کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے اور عمارت کو مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے لیکن ان کے اس دعوے کے برعکس خارکیف میں روس نوازوں نے خودمختاری ریاست کے قیام اور یوکرین کی عمل داری سے گلوخلاصی کے لیے ریفرینڈم کا اعلان کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں