.

مشرقی یوکرین : سرکاری عمارات پر مظاہرین کا قبضہ

زیر قبضہ سرکاری عمارت سے 56 افراد باہر آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین میں مظاہرین نے اس وقت ایک سرکاری عمارت میں سکیورٹی کی صورتحال پیدا کر دی جب روس کے حامی مظاہرین مشرقی یوکرین میں احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران لگ بھگ پچاس افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ خارکیف، لوہانسک اور دونیتسک میں بھی ویسے ہی ریفرنڈم کا اہتمام کرایا جائے جیسا کہ روس میں شمولیت کیلیے کریمیا میں کرایا جا چکا ہے۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ لوہانسک میں ریاستی سلامتی سے متعلق سرکاری عمارت میں 60 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ جب کہ عمارت کے گرد بارود بچھا دیا گیا ہے، تاہم اس عمارت سے 51 افراد کو غیر مسلح حالت میں نکلتے دیکھا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اس بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ عمارت سے بدھ کے روز نکلنے ولے افراد مظاہرین تھے یا یرغمال بنائے گئے لوگ تھے۔ بعد ازاں خبر رساں ادارے انٹر فیکس نے عمارت سے نکلنے والوں کی تعداد 56 بتائی ہے اور کہا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ حکام کی بات چیت شروع ہو گئی ہے۔

ایک روز قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے اپنے ایجنٹ مشرقی یوکرین میں داخل کیے ہیں۔ جان کیری نے اس حوالے سے امریکی قانون سازوں سے بات کرتے ہوئے کہا ''روس کے اس اقدام سے لگتا ہے روس مشرقی یوکرین میں بھی کریمیا جیسی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے روس کی ان کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا۔