.

کارگل کا فاتح کون، بھارت میں ایک نئی بحث شروع

مسلمان فوجیوں نے نہیں، ہندوستانی فوج نے فتح کیا، سابق آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماج وادی پارٹی کے رہنما نے بھارتی انتخابات کے شروع ہوتے ہی کارگل کی فتح کے حوالے سے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے۔ نئی بحث سے بھارت میں مذہبی تقسیم کے بڑھے ہوئے ہونے کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے غازی آباد میں مسلمانوں کے حوالے سے کہا ہے کہ کارگل کی بھارت کیلیے فتح خالصتا مسلمان فوجیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی نہ کہ ہندو فوجیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔

اعظم خان کے اس مسلم نواز خطاب پر اس وقت کے بھارتی آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ نے حقیقت کی دو ٹوک اور براہ راست تردید کی بجائے یہ ردعمل دیا ہے کہ '' کارگل کی فتح کسی مخصوص طبقے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ سب ہندوستانی تھے جنہوں نے کارگل کی جنگ پاکستان سے جیتی تھی۔

واضح رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اتر پردیش کے کسی رہنما کے بیان پر ہندو اکثریت نے بحثا بحثی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہی سماج وادی پارٹی کے رہنما نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی رہنما اور وزارت عظمی کے امیدوار نریندرا مودی کو بالواسطہ طور پر کتا قرار دیا تھا۔

نریندرا مودی بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمی کے امیدوار قرار پانے کے باوجود بھارت میں متنازعہ ترین انتخابی امیدوار ہیں کہ ان کی وزارت اعلی کے دور میں صوبہ گجرات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور صرف ایک واقعے میں تین ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔ اس لیے مسلمانوں میں نریندرا مودی کیلیے قبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

بھارت کے انتخابی میدان میں ماضی میں بھی مافیاز اور جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد میں آگے آنے کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ اب کی بار بھی مودی کے قریبی ساتھی امیت شا کی اس حوالے سے شہرت زیادہ ہے۔ ان کے بارے میں الزام ہے کہ انہوں 302 افراد کو قتل کیا ہے۔ اسی لیے انہیں غنڈہ نمبر ایک کا خطاب بھی اعظم خان نے ہی دیا ہے۔