.

سعودی طالبات کو کھیلوں کی اجازت دینے کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے وزارت تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری اسکولوں کی سرگرمیوں میں شریعت کے مطابق طالبات کے جسمانی تربیت کے پروگراموں کو شامل کرنے کا جائزہ لے۔

سعودی عرب میں نجی تعلیمی اداروں میں گذشتہ سال طالبات کے لیے اسپورٹس کی کلاسیں شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔اب شوریٰ کونسل نے وزارت تعلیم کو اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے ساتھ مل کر سرکاری اسکولوں کی معلمات کے لیے مناسب تربیتی پروگرام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کونسل کے اجلاس کے بعد اسسٹینٹ چئیرمین ڈاکٹر فہد موتاد الحماد نے کہا کہ اس تجویز کے حق اور مخالفت میں مختلف نکات سامنے آئے ہیں۔تجویز کے حامیوں نے کہا کہ سعودی معاشرے اور خاص طور پر خواتین میں موٹاپے کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔اس لیے انھیں کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

تجویز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ طالبات کے بہت سے اسکولوں میں کھیلوں کے لیے مناسب سہولیات اور انفرااسٹرکچر موجود نہیں ہے۔تاہم کونسل کی تعلیمی امور اور سائنسی تحقیق کی کمیٹی کا موقف تھا کہ سفارش کی منظوری شریعت کے خلاف نہیں ہے۔

اس کمیٹی نے اپنے موقف کے حق میں سعودی عرب کے مرحوم مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز کے ایک فتویٰ کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے شریعت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق خواتین کے لیے کھیلوں کی اجازت دی تھی۔کونسل نے کثرت رائے سے اس سفارش کی منظوری دی ہے۔