دبئی: ڈرونز دفتری دستاویزات کی ترسیل کے کام آنے لگے

واٹر پروف ڈرونز بھی تیار، دو منٹ میں دستاویات کی منتقلی ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص موت کا پیغام سمجھے جانے والے ڈرون دبئی میں زندگی اور روز مرہ کے پیغامات کی ترسیل کیلیے بروئے کار لائے جائیں گے۔ یہ فیصلہ دبئی کے ڈائریکٹر جنرل ریذیڈینسی اینڈ فارن افیئرز نے کیا ہے جو دفتری دستاویزات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سرعت کیساتھ بھجوانے کا نیا ٹرینڈ اختیار کرنے کی طرف مائل ہے۔

تقریبا ایک ماہ پہلے اس سلسلے میں شروعات اس طرح ہوئیں کہ ڈائریکٹوریٹ نے امریکی ڈرونز حاصل کیے تاکہ شہریوں کی رہائشی دستاویزات اپنی ایک دفتری برانچ سے دوسری برانچ میں منتقل کرنے کیلیے میں استعمال کر سکیں۔ ڈرونز کی خدمات ''بر دبئی'' اور'' دیرا'' کی شاخوں کے درمیان صرف دو مینٹ میں دستاویزات کی منتقلی ممکن ہو گئی۔

یہ تصور بنیادی طور پر ڈائریکٹوریٹ کے ایک کارکن سعود احمد ابو ملیح نے دفتری کاغذات کی منتقلی کیلیے پیش کیا تھا، اس تصور کے سامنے آنے کے بعد اسے کہا گیا کہ اس تصور کی عملی صورتوں کیلیے تجاویز مرتب کرے۔ بعد ازاں ڈاریکٹوریٹ نے میجر جنرل محمد احمد المری کے حکم پر اس تصور کو اپنانے اور اس کیلیے فنڈز جاری کر دیے۔

سعود احمد ابو ملیح کا ڈرونز کے ساتھ گہرا تعلق رہا تھا وہ اپنے روز مرہ کے کاموں کے بعد ایک دل پسند مشغلے کے طور پر ڈرونز اڑاتا ہے، اس لیے اسے ان ڈرونز کی پیغام رسانی کی صلاحیت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ سعود احمد نے ان کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار اس طرح بھی کر رکھا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ میں بھی اپنے ڈرون سجا کے رکھے ہوئے تھے۔

سعود احمد کا کہنا ہے کہ '' ڈرون بہت سا وقت بچاتے ہیں جبکہ قاصد اور ڈرائیور حضرات کو سارا سارا دن ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک دستاویزات پہنچاتے گذر جاتا ہے، ان کے مقابلے میں یہی کام محض دو منٹوں میں کر دیتا ہے۔''

سعود احمد نے کہا '' گاڑی پر ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک جانے کیلیے دو سے تین گھنٹے خرچ ہوتے ہیں سڑکوں پر رش کی صورت میں یہ دورانیہ اس سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ '' ڈرونز کے استعمال سے ملنے والی اس آسانی کے باوجود شروع شروع میں مشکلات بھی رہیں کہ ڈرون واٹر پروف نہ تھے اگر ڈرون کسی وجہ سے پانی میں گر گیا تو کیا بنے گا سعود احمد کے مطابق یہ اہم مسئلہ تھا، اس سلسلے میں ڈرون بنانے والی کمپنی سے رابطہ کیا اور ڈرون کی ایسی کیسنگ بنانے کیلیے کہا جو پانی سے متاثر نہ ہو تاکہ دستاویزات محفوظ رہ سکیں۔''

واضح رہے یہ مسئلہ حل ہو گیا اور اب ڈرون پانی کی سطح پر محفوظ لینڈنگ کر سکتا ہے اور دوبارہ پروان بھی کر سکتا ہے۔ ریموٹ کے ذریعے ان ڈرونز کو دو کلو میٹر کے فاصلے تک کنٹرل کیا جا سکتا ہے جبکہ ڈرون کی چھ کلومیٹر تک بھی پرواز ممکن ہے۔ سعود احمد ابو ملیح کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ اب اپنے سائیلین اور کسٹمرز کو مکمل حالت میں دستاویات ان کے دفاتر یا گھروں میں پہنچانے کی تیاری کر رہا ہے۔

ڈرون کو اس مقصد کیلیے استعمال کرنے کے بعد کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کرنے کا قدیمی طریقہ ایک نئے انداز سے زندہ ہو سکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ عام نوعیت کی چٹھیاں بھجوانے کا یہ فریضہ بھی ڈرونز کے ذمہ ہو جائے۔ البتہ یہ چٹھیاں کسی ڈھول کو نہیں کسٹمرز کو بھیجی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں