سعودی ولی عہد دوم شہزادہ مقرن بنکوں پر برس پڑے

''بنک معاشرے سے لینے کے مقابلے میں بہت کم لوٹا رہے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد دوم شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز اپنے ملک میں کام کرنے والے بنکوں پر برس پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بنک جوکچھ لے رہے ہیں،اس کے مقابلے میں ان کا معاشرے کی تعمیر وترقی میں کردار بہت تھوڑا ہے۔

شہزادہ مقرن کا یہ بیان مختلف سعودی اخبارات نے اپنی بدھ کی اشاعت میں نقل کیا ہے اور اس کا مقصد عام سعودی شہریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''مجھے کوئی ایسا بنک دکھائیے جس نے کوئی عطیہ دیا ہو یا مدد کی کوئی پیش کش کی ہو''۔تاہم ان کے اس بیان سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ سعودی عرب میں بنکوں کے خلاف کوئی اقدام کیا جارہا ہے۔

روزنامہ الحیات کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ مقرن نے ریاض میں ایک خیراتی ادارے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنکوں کے حوالے سے کہا کہ ''وہ کئی لحاظ سے زیریں جانب ہیں۔وہ شہریوں اور ریاست سے جو کچھ وصول کرتے ہیں،اس کے مقابلے میں بہت تھوڑا لوٹاتے ہیں''۔

سعودی مملکت میں عام شہریوں کو رہنے کے لیے مکانوں کی قلت کا سامنا ہے اور وہ بے روزگاری کا بھی شکار ہیں۔سعودی عرب میں گذشتہ سال کی چوتھی سہ ماہی میں سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 11.5 فی صد رہی تھی۔

انگریزی روزنامے عرب نیوز نے گذشتہ روز ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2013ء کے دوران سعودی عرب کے کمرشل بنکوں کا مجموعی منافع 37 ارب 60 کروڑ ریال رہا تھا اور یہ 2012ء کے مقابلے میں سات فی صد زیادہ تھا۔

سعودی عرب میں سماجی فلاح و بہبود پر 2011ء میں عرب بہاریہ تحریک کے آغاز کے بعد سے زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور یہ ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔شاہ عبداللہ نے اسی سال شہریوں کا معاشی بوجھ کم کرنے اور انھیں سہولت بہم پہنچانے کے لیے پانچ لاکھ نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن افسر شاہی کی جانب سے رکاوٹوں اور جگہ کے حصول میں مشکلات کی وجہ سے ا س منصوبے پر بروقت عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں