لندن:اماراتی بہنوں پر حملہ، چار مشتبہ افراد زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے لندن کے ایک لگژری ہوٹل میں اسی ہفتے تین اماراتی خواتین پر قاتلانہ حملے کے الزام میں چار مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار تین مردوں سے قاتلانہ حملے کے الزام میں تفتیش کی گئی ہے اور ایک عورت سے چوری شدہ اشیاء کو ٹھکانے لگانے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ان چاروں افراد کو اماراتی خواتین پر گذشتہ اتور کو حملے کے چھتیس گھنٹے کے بعد لندن کے شمالی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس ان گرفتار افراد سے مزید چوبیس گھنٹے تفتیش کرسکتی ہے اور اس وقت میں مشتبہ ملزموں کی ضمانت یا ان پر فوجداری فرد الزام لگانے کا فیصلہ کرنے تک چھتیس گھنٹے تک توسیع دی جاسکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں سکیورٹی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی اور ہوٹل کے ایک ترجمان نے العربیہ سے گفتگو میں بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔ترجمان نے کہا کہ جس کسی نے بھی ہوٹل میں کسی کو مشکوک حرکات وسکنات کرتے ہوئے دیکھا ہے تو وہ اس سے متعلق پولیس کو مطلع کر سکتا ہے۔

لندن پولیس کے مطابق ان تینوں اماراتی بہنوں فاطمہ ،یوہود اور خلود کی عمریں تیس اور چالیس کے درمیان ہیں۔ان پروسطی لندن میں واقع چار ستارہ کمبرلینڈ ہوٹل کی ساتویں منزل کے ایک کمرے میں اتوار کو علی الصباح دوبجے کے قریب حملہ کیا گیا تھا۔ہتھوڑے کے وار سے ان کے سر اور چہرے بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔تینوں زخمی خواتین وسطی لندن کے ایک اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ان میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے لیکن دو کو آنے والے زخم جان لیوا نہیں ہیں۔

ہوٹل کی اسی منزل میں قیام کرنے والے ایک کویتی سیاح نے بتایا ہے کہ ''ہم نے جو کچھ سنا ،اس سے ایسے لگ رہا تھا کہ کوئی شخص ان خواتین کی اشیاء چرانے کی کوشش کررہا تھا۔میں اسی سلسلے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں۔باقی معلومات پولیس کے لیے صیغہ راز میں ہیں''۔اس کویتی سے بھی پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے۔

ان تینوں اماراتی بہنوں کے والد جعفر ناصر النجار کا کہنا ہے کہ حملہ آور انھیں قتل کرنا چاہتا تھا۔انھوں نے متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے روزنامہ الیوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹیوں کے پاس ہوٹل کے کمرے میں قیمتی سامان موجود تھا لیکن حملہ آور نے اس سامان کو نہیں چھیڑا۔

الیوم میں بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نجار کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ حملہ آور ان کی بیٹیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے جس طرح ہتھوڑے سے ان کے سروں پر وار کیے ہیں،اس سے اس کا ارادہ ظاہر وباہر ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''حملے کی خبر سننے کے بعد میری صحت مزید بگڑ گئی ہے۔میری یہ خواہش تھی کہ میں ان کے درمیان موجود ہوتا لیکن اس وقت میری عمر ستر برس ہے اور میں ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتاہوں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں