.

اقوام متحدہ کیلیے ایرانی سفیر نا منظور: امریکی کانگریس

امریکی صدر کے فیصلے کے مضمرات سفارتی سنگین ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس نے اقوام متحدہ کیلیے نامزد ایرانی سفیر حامد ابو طالبی کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان کا اس طرح کا متفق علیہ فیصلہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، جو اس ایرانی سفیر کے بارے میں ارکان کانگریس نے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کیلیے نامزد ایرانی سفیر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان ایرانیوں میں شامل رہے ہو سکتے ہیں جنہوں نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا اور امریکی سفارتی عملے کے 52 ارکان کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔

کانگریس میں اس بارے میں منظور کیے گئے متفقہ بل کے بعد صدر اوباما کو ایسا فیصلہ کرنا ہو گا جس کے سفارتی مضمرات سنگین نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ خصوصا ایسے ماحول میں جبکہ ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایرانی جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اس بل کی منظوری سے مبینہ طور پر جاسوسی اور دہشت گردی میں ملوث رہنے والے نامزد ایرانی سفیر برائے اقوام متحدہ ابو طالبی کا امریکا میں داخلہ روک دیا جائے گا۔ امریکی کانگریس میں اس متفقہ بل کی منظوری سے چار دن پہلے امریکی سینیٹ اس طرح کا ایک بل منظور کر کے وائٹ ہاوس کو بھجوا چکا ہے۔ کانگریس میں اس پیش رفت سے پہلے ہی امریکی انتظامیہ ایران کو بتا چکی ہے کہ حامد ابو طالبی کی امریکا آمد قبول نہیں ہے.

دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ مرزیخ افہام کا کہنا ہے کہ '' ابو طالبی ایران کے بہترین سفارت کاروں میں سے ایک ہیں اور اس سے پہلے انہیں امریکا ویزا بھی جاری ہو چکا ہے۔'' ابوطالبی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کے وقت انہوں نے صرف ترجمہ کرنے اور مذاکرات کیلیے مدد دی تھی۔

امریکی کانگریس کی طرف سے ابو طالبی کے خلاف واضح موقف آنے کے بعد اب صدر اوباما پر ہے کہ وہ اس سلسلے میں دستخط کرتے ہیں یا نہیں۔ امریکی ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ '' امریکا ایران کو مسلسل بتا رہا ہے کہ ابو طالبی کو اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر بنانے کا فیصلہ قبول نہیں ہے۔ ''