.

ترک عدالت نے عدلیہ پر حکومتی گرفت کمزور کر دی

قانونی اصلاحات مسترد، پراسیکیوشن کا شعبہ بھی آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی آئینی عدالت نے جمعہ کے روز متنازعہ قانونی اصلاحات کو کالعدم قرار دے کر حکومت کو شدید دھجکا دیا ہے۔ ایردوآن حکومت نے یہ اصلاحات عدلیہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلیے کی تھیں۔ ترک میڈیا کے مطابق عدالتی فیصلہ حکومت کیلیے ایک دھچکے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایردوآن حکومت نے یہ اقدامات مبینہ کرپشن سکینڈلز کے سامنے آنے پر کیے تھے۔

آئینی عدالت نے ان اصلاحات کو منسوخ کر دیا ہے جن میں وزیر انصاف کو ججوں کی اعلی کونسل اور پراسیکیوٹرز پر اختیارات دے دیے تھے۔ عدالت کا یہ فیصلہ قانون سازوں خصوصا اپوزیشن جماعت کے ارکان کی طرف دائر کردہ درخواست پر کیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں وزیر انصاف کو تحقیقات سے متعلقہ پراسیکیوٹرز پر دیے گئے اختیارات بھی ختم کر دیے ہیں۔ واضح رہے ترکی کی حکومت نے انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات بھی بڑھا دیے تھے۔ متنازعہ بل کی منظوری پر پارلیمنٹ کے ارکان کے درمیان مکے اور گھونسے چل گئے تھے، تاہم بعدازاں ترک صدر عبداللہ گل نے ماہ فروری میں اس منظور شدہ بل پر دستخط کر کے اسے باضابطہ منظوری دی تھی۔

اسی طرح حکومت نے انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات بڑھانے کیلیے کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ سے بھی باقاعدہ منظوری حاصل کی تھی۔ حکومت کی ان قانونی اصلاحات کا سبب امریکا میں مقیم دینی رہنما فتح اللہ گولین اور وزیر اعظم طیب ایردوآن کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج بنی تھی۔ وزیر اعظم ایردوآن کا موقف ہے کہ فتح گولین پولیس اور عدلیہ میں موجود اپنے پیروکاروں کے ذریعے بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کو کمزور کر رہے ہیں۔