شاہ عبداللہ کی سفارش پر سعودی قاتل کی جان بخشی

قاتل اور مقتول دونوں کا تعلق جازان شہر سے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک خاندان نے اللہ کی رضا اور خادم الحرمین الشریفین کی سفارش پر اپنے ایک عزیز کے قاتل کی قصاص کی سزا معاف کرتے ہوئے اس کی جان بخشی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ قاتل اور مقتول دونوں سعودی شہری ہیں اور ان کا تعلق جازان شہر سے ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز مقتول محسن بن احمد علی غروی کے لواحقین نے امیر مکہ مکرمہ شہزادہ محمد بن ناصر بن عبدالعزیز سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ مقتول کے ورثاء نے کہا کہ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین کی سفارش اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے قاتل متعب بن یحیٰ الشراحیلی کی سزا معاف کر دی ہے۔

بعد ازاں قاتل کے شرعی وکیل محمد بن احمد غروی اوراس کے خاندان کے افراد نے مقتول کے ورثاء سے بھی ملاقات کی۔ قاتل کے خاندان نے تصدیق کی کہ مقتول کے ورثاء نے انہیں اللہ کی خوشنودی اور شاہ عبداللہ کی سفارش پر ہمارے بیٹے کی قصاص کی سزا معاف کر دی ہے۔

خیال رہے کہ قاتل اور مقتول دونوں کا تعلق سعودی عرب کے صحرائی علاقے جازان سے ہے۔ دونوں کے درمیان چند ماہ قبل کسی بات پر تنازع پیدا ہوا تھا جس کے بعد متعب بن یحیٰ نے محسن بن علی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا تھا۔

شاہ عبداللہ کی سفارش پر کسی سعودی خاندان کی جانب سے قاتل کی سزاء کی جان بخشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خادم الحرمین الشریفین کی سفارش پر قاتلوں کی سزائیں معاف کی جاتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں