.

انتالیس بیویوں، 127 بچوں والا ہندوستانی ووٹر

منفرد خاندان کی وجہ سے گھاکا چنا سیاستدانوں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں تاریخ کے سب سے بڑا انتخابی معرکہ جاری ہے جہاں درجنوں شادیاں کرنے والے مخصوص فرقے کے رہنما زیون گھاکا چنا نامی ایک ایسا رہنما ووٹر بھی ہے جسے ہر مقامی سیاست دان جاننا چاہتا ہے۔

بھارت کے شمال مشرقی علاقے میزو رام میں چنا جیسا کوئی دوسرا نہیں کیونکہ انہوں نے 39 شادیاں کر رکھی ہیں اور ان کے 127 بچے (94 بچے اور 33 پوتے پوتیاں) ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیاستدان ان میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ ان کی حمایت سے ان کے انہیں 100 زائد ووٹ حاصل ہو جائیں گے۔

ان کا 100 کمروں والا گھر ریاستی دارالحکومت ایزاؤل کے پہاڑی علاقے میں واقع گاؤں بکتاؤنگ میں واقع ہے۔

چنا نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران ووٹ مانگنے کے لیے یہاں بہت سے سیاستدان آئے ہیں۔ ستر سالہ چنا کا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران ہماری مانگ بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں کامیابی کا مارجن بہت کم ہوتا ہے، اسی لیے 100 ووٹ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے الیکشن کے نو مرحلوں میں سے جاری چوتھے مرحلے میں جمعہ کو صرف میزو رام میں ووٹ ڈالے گئے۔

یاد رہے کہ اس ریاست میں الیکشن کمیشن نے حالیہ نسلی فسادات میں بے گھر ہونے والوں کو پناہ گزینوں کے کیمپ میں ووٹ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ہونے والے تنازع کے سبب پولنگ کا شیڈول تبدیل کر دیا تھا۔ اس ریاست میں 80 کروڑ سے زائد ووٹرز کے حامل ملک کے صرف ایک فیصد ووٹرز موجود ہیں۔

بھارت میں ووٹنگ کے اس عمل کا اختتام 12 مئی کو ہو گا جس کے بعد اگلے چار روز میں انتخابی نتائج سامنے آئیں گے۔


ملک کے دیگر ووٹرز کی طرح چنا بھی صاف و شفاف حکومت اور ملک میں ترقی کے خواہشمند ہیں تاکہ ان کا گھرانہ خوشحال زندگی بسر کر سکے۔

انہوں نے ہم سب سیاستدانوں سے اپنے ذاتی مفاد کے بجائے بہتر اسلوب حکمرانی اور ریاست کی خوشحالی چاہتے ہیں۔

چنا کے دادا نے 1930 کی دہائی میں ایک فرقہ بنایا تھا جس کے اس وقت ان کی چار نسلوں سمیت 1700 سے زائد ارکان تھے جن میں سے زیادہ تر افراد لکڑی کا فرنیچر اور مٹی کے برتن بنانے کا کام کرتے ہیں۔

ان کی تعلیمات عیسائی تعلیمات پر مبنی ہیں لیکن ریاست کے سب سے بڑے چرچ پریس بیٹرین کے رہنما چنا خاندان کے کثرت ازدواج کے یقین کو مسترد کرتے آئے ہیں۔