.

گرجا گھروں میں بچوں کیساتھ زیادتی پر پوپ کی معافی

اقوام متحدہ نے پادریوں کے بڑھتے جرائم پر تشویش ظاہر کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسیحی پوپ نے گرجا گھروں میں پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ ہونے والی اخلاقی اور جنسی زیادتیوں پر اقوام متحدہ کی طرف سے اٹھنے والے شور کے بعد بالاخر معافی مانگ لی ہے ۔ پوپ کی طرف سے اس سلسلے میں معافی مانگنے کے بعد یہ امکان پیدا ہو گیا ہے پچھلے ماہ قائم کی گئی آٹھ رکنی کمیشن اپنی سفارشات کے ساتھ ساتھ جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سزا تجویز کرے گا، یا کم از کم انہیں دنیا بھر موجود گرجا گھروں سے الگ کر دینے کا مطالبہ زور پکڑ لے گا۔

اقوام متحدہ نے دو ماہ پہلے ایسے ہزاروں مظلوم بچوں کا مقدمہ پوپ کے سامنے پیش کیا تھا تا کہ گرجا گھروں کا ماحول بہتر ہو سکے۔ پوپ نے اس مسئلے کی سنگینی کا اعتراف کیا تھا۔ پوپ فرانسس کے اس مسئلے کیلیے متوجہ ہونے پر کیتھولک مسیحیوں نے اسے غیر ضروری قرار دیا تھا، تاہم پوپ نے ماہ فروری میں اس سلسلے میں کمیشن قائم کرنے کا وعدہ کیا جسے مارچ میں پورا کرتے ہوئَے آٹھ رکنی کمیشن قائم کر دیا گیا۔

تاحال اس کمیشن کی ورکنگ سامنے نہیں آ سکی ہے کہ اس نے اب تک کتنے اجلاس کیے کتنی گرجا گھروں کا دورہ کیا اور متاثرہ بچوں کیلیے کیا تجاویز پیش کیں۔ انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور مذہبی اداروں کی طرف سے پوپ کے ذاتی طور پر معافی مانگنے کی تعریف کی گئی ہے۔

پوپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ '' بچوں کو جنسی زیادتی سے بچانے کیلیے کیتھولک چرچ نے جتنی کوششیں کی ہیں کسی اور ادارے نے نہیں کی ہیں، لیکن اس کے باوجود کیتھولک چرچ پر ہی تنقید کی جاتی ہے۔'' انہوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے پادریوں میں مجموعی تعداد کم بتائی لیکن پادریوں کی کل تعداد کے مقابلے یہ اوسط زیادہ ہے۔ بچوں کے تحفظ کی کیتھولک تنظیم نے عہدیداروں سے خطاب کے دوران کہا '' چرچ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف زیادہ سختی ہو گی ۔''