.

افغان صدارتی انتخاب: جزوی نتائج میں عبداللہ عبداللہ کی برتری

پانچ لاکھ ووٹوں کی گنتی میں اشرف غنی دوسرے اور زلمئے رسول تیسرے نمبر پر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی جزوی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کیا ہے جن کے مطابق سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کو اپنے قریب ترین حریف اشرف غنی پر برتری حاصل ہے۔

آزاد الیکشن کمیشن کے سربراہ یوسف نورستانی نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملک کے چھبیس صوبوں میں صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے دس فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔یہ صوبے ملک کے شمال ،جنوب ،مشرق اور مغرب میں واقع ہیں اور ان میں دارالحکومت کابل بھی شامل ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان چھبیس صوبوں میں صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے اب تک پانچ لاکھ کی گنتی کی گئی ہے۔ان کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو 41.9 فی صد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل ہے۔ڈاکٹر اشرف غنی نے 37.6 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں اور زلمئے رسول 9.8 فی صد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

اگر پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے صدارتی امیدوار میں سے کوئی بھی پچاس فی صد سے زیادہ ووٹ نہ لے سکا تو پھر ان دونوں کے درمیان صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ ہوگا۔صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج مئی کے آخر تک متوقع ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اب تک جن آٹھ صوبوں کے نتائج کا اعلان نہیں کیا،ان میں دو بدخشاں اور بغلان شمال میں واقع ہیں۔دو صوبے نورستان اور پکتیکا مشرق میں واقع ہیں،ایک دیہ کنڈی وسط میں ،دو غزنی اور وردک جنوب میں اور ایک غور مغرب میں واقع ہے۔

عبداللہ عبداللہ ایک پشتون والد کے بیٹے ہیں۔ان کی والدہ تاجک ہیں اور اسی وجہ سے وہ شمال کے تاجکوں کے زیادہ قریب ہیں اور انھیں پختونوں سے زیادہ تاجکوں کا وفادار خیال کیا جاتا ہے۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پانچ اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔طالبان مزاحمت کاروں کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں اور خراب موسم کے باوجود ستر لاکھ سے زیادہ افغانوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔عالمی لیڈروں نے صدارتی انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی اس بلند شرح کو سراہا ہے اور اس کو جنگ زدہ ملک کے لیے امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کے انخلاء کے بعد نیک شگون قراردیا ہے۔