.

صدر بوتفلیقہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں: قریبی مشیر

صدارتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں آئینی اصلاحات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے ستتر سالہ صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں ،وہ روزانہ اپنی ٹیم سے گفتگو کرتے ہیں اور وہ 17 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد ملک کا نظم ونسق چلانے کے قابل ہوجائیں گے۔

یہ بات الجزائر کے مستعفی وزیراعظم اور صدر بوتفلیقہ کی انتخابی مہم کے انچارج عبدالمالک سلال نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''صدر اپنے ذمے داریاں نبھانے کے لیے تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں۔میں ان سے روزانہ ٹیلی فون پر بات کرتا ہوں اور انھیں انتخابی مہم کی پل پل کی اطلاع دی جاتی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ان کی آواز بحال ہورہی ہے اور انھیں بہتر طریقے سے چلنے پھرنے کے لیے کچھ دن اور درکار ہوں گے۔اب وہ بیمار نہیں بلکہ صحت یاب ہورہے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ اگر صدر جیت گئے تو وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی اصلاحات کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس کے تحت صدر کی مدت محدود کردی جائے گی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔

بوتفلیقہ گذشتہ کئی ماہ سے عوام میں نمودار نہیں ہوئے لیکن وہ ہفتے کے روز اپنی تیزی سے بہتر ہوتی صحت سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ٹی وی پر نمودار ہوئے تھے۔وہ 17 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں۔انھوں نے اپنے قریبی حریف امیدوار پر انتخابی مہم کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب کوئی امیدوار والیوں (صوبائی گورنروں کو ڈراتا دھمکاتا ہے اور حکام سے کہتا ہے کہ وہ انتخابی فراڈ کی صورت میں اپنے خاندانوں اور بچوں کے بارے میں خبردار رہیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔یہ ٹیلی ویژن کے ذریعے دہشت گردی ہے''۔

وہ اپنے قریبی حریف صدارتی امیدار علی بن فلیس کے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جنھوں نے انتخابی فراڈ پر حکام کو انتباہ کیا ہے۔بن فلیس نے بدھ کو ایک نشری بیان میں کہا تھا کہ ''فراڈ اور اس کے ذرائع کا استعمال حرام ہے۔میں والیوں سے مخاطب ہوں کہ آپ کے خاندان ہیں اور ان تحفظ کے بارے میں سوچیں''۔

واضح رہے کہ الجزائر میں سیاسی تبدیلیوں کو یورپ اور امریکا میں بڑے قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔الجزائر یورپی ممالک کو گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور وہ القاعدہ مخالف جنگ میں امریکا کا شراکت دار ہے۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں وہ دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے تیسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے آئین میں ترامیم کی گئی تھیں کیونکہ الجزائری آئین کے تحت پہلے کوئی شخصیت تیسری مرتبہ ملک کا صدر نہیں بن سکتی تھی۔

بوتفلیقہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔وہ گذشتہ سال مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے اور اس کے بعد سے وہ منظر سے غائب ہیں۔انھوں نے اپریل 2012ء میں 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی نسل کے لوگوں کا وقت گزر چکا ہے۔

ان کا اشارہ فرانس سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے لیڈروں کی جانب تھا جو 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلاتے آ رہے ہیں لیکن گذشتہ سال نومبر میں ان کی جماعت نے انھیں چوتھی مدت کے لیے صدارتی امیدوار نامزد کردیا تھا۔وہ اپنی علالت کے باوجود الجزائری عوام میں مقبول ہیں اور انھوں نے ملک کو نوے کی عشرے میں خونریز خانہ جنگی سے نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر ڈالنے میں بطور صدر اہم کردار کیا ہے۔