.

مشرقی یوکرین کے باسی روسی صدر سے مدد کے طلب گار

پوتین علاقے میں تبدیل ہوتی صورت حال کو گہری تشویش سے دیکھ رہے ہیں: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں مشرقی یوکرین کی جانب سے مدد کی درخواستیں موصول ہورہی ہیں اور وہ صورت حال کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

روسی خبررساں ایجنسیوں نے صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف کا سوموار کو ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''بدقسمتی سے ہمیں مشرقی یوکرین کے علاقوں سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ان میں صدر ولادی میر پوتین کو ذاتی طور پر مخاطب کیا گیا ہے اور ان سے کسی نہ کسی شکل میں مداخلت کے لیے کہا گیا ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ ''روسی صدر ان علاقوں میں تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں''۔ واضح رہے کہ مغربی طاقتیں پہلے ہی روس پر مشرقی یوکرین میں علاحدگی پسندوں کی حمایت کے الزامات عاید کررہی ہیں۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ روسی ایجنٹ علاقے میں فعال ہیں۔

جرمنی نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں سرگرم مسلح گروپوں کو روس کی جانب سے مدد ملنے کے بہت سے اشارے ملے ہیں۔جرمن حکومت کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ''ان مسلح گروپوں کی ظاہری ہئیت ،وردیوں اور ہتھیاروں سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عام شہری یکا یک دفاعی فورسز میں کیسے تبدیل ہوگئے ہیں''۔

جرمن ترجمان نے کہا کہ علاقے میں کشیدگی پر قابو پانے کے لیے روس پر خاص ذمے داری عاید ہوتی ہے اور وہ یوکرین میں استحکام کے لیے کردار ادا کرے۔وہ یوکرین کی سرحد سے اپنے فوجیوں کو واپس بلائے ،گیس کی قیمتوں کو کم کرے اور رواداری کی زبان استعمال کرے۔

درایں اثناء یوکرین کے عبوری صدر اولیکسندر ترچینوف نے مشرقی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے اور ملک کو وفاق بنانے کے لیے قومی ریفرینڈم کے انعقاد کی تجویز کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ارکان پارلیمان سے گفتگو کرتے ہوئَے کہا کہ ''مجھے یقین ہے یوکرینیوں کی اکثریت ایک آزاد ،جمہوری اور متحدہ یوکرین کی حمایت کریں گے''۔

ادھر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ''یوکرین کے روسی بولنے والے مشرقی علاقے کو بھی نئے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ یوکرین کی تقسیم روس کے مفاد میں نہیں ہے لیکن ماسکو کیف کی جانب سے تمام یوکرینی شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک چاہتا ہے۔

انھوں نے یوکرین اور امریکا کے روس پر مشرقی یوکرین میں فوجی مداخلت سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے امریکا کی سنٹری انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان برینان کے کیف کے خفیہ دورے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی وضاحت طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے روس پر یوکرین کے مشرقی شہروں میں انارکی پھیلانے کے لیے اپنے ایجنٹ بھیجنے کا الزام عاید کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کے مشرقی شہروں میں کریمیا ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے تا کہ وہاں بھی فوجی کارروائی کی راہ ہموار کی جاسکے۔