.

لاپتہ طیارہ: زیر آب تلاش بھی شروع

سطح آب پر کوششوں کا دائرہ سکیڑا جائے گا: اینگس ہوسٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو سو انتالیس سواروں سمیت لاپتہ ہونے والے ملائیشین طیارے کی تلاش کیلیے سرگرداں ٹیم نے بتایا ہے کہ '' جنوبی بحر ہند کے تلاش کیلیے مختص علاقے میں تیل کی لکیرکی نشان دہی ہوئی ہے، تاہم ابھی اس امر کا جائزہ لینا باقی ہے کہ تیل کی یہ علامات اسی لاپتہ طیارے سے متعلق ہیں یا نہیں۔ یہ بات طیارے کی تلاش کیلیے آسٹریلین ٹیم کے سربراہ اینگس ہوسٹن نے بتائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ '' گزشتہ شام ہماری ٹیم نے اپنے علاقے میں تیل کی علامات دیکھی ہیں۔''

دریں اثناء تلاش میں مصروف ٹیم پہلی مرتبہ ایک سب میرین جنوبی بحر ہند کے گہرے پانیوں میں بھجنے والی ہے تاکہ پہلے سے ملنے والے سگنلز کے حوالے سے معلوم کیا جا سکے کہ وہ اسی لاپتہ طیارے سے تعلق رکھتے تھے یا نہیں، یہ کوشش لاپتہ طیارے کے بلیک باکس کے حوالے سے ہو گی۔

بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیم زیر آب تلاش کیلیے سب میرین کو جلد سے جلد بھجوانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بلیو فن 21 نامی سب میرین ایک ریڈار طرز کا نقشہ بنانے میں مدد دے گی جس سے سطح سمندر پر طیارے کے ملبے کے بارے میں معلومات مرتب کی جائیں گی۔ یہ کوششیں ان سگنلز کے بعد سامنے آرہی ہیں جو دو ہفتوں کے دوران زیر آب سے آوازیں سنی گئی ہیں۔

اینگس ہوسٹن نے کہا '' پچھلے چھ دنوں کے دوران بلیک باکس کے حوالے سے کوئی سگنل نہیں ملا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ زیر آب کوششوں کا یہی وقت ہے۔'' انہوں نے مزید کہا '' بلیوفن 21 اس مقام سے تلاش کرے گا جہاں سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چار مرتبہ سگنلز ملے ہیں۔''

آسٹریلین ذمہ دار اینگس ہوسٹن نے کہا '' چار سگنلز کی بنیاد پر اب سطح آب پر نسبتا کم علاقے میں تلاش کی جائے گی، تاہم انہوں نے زیر زمین کوششوں کے نتائج کے یقنینی نہ ہونے کا بھی اشارہ دیا ہے اور کہا یہ کوششیں لا حاصل بھی جا سکتی ہیں۔