.

امریکا میں مذہبی تشدد کی کوِئی جگہ نہیں: براک اوباما

یہود کے دو مراکز پر حملے کے الزام میں انتہا پسند سفید فام عیسائی سے تفتیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا میں مذہبی تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

انھوں نے ریاست کنساس کے شہر اوولینڈ پارک میں یہودیوں کے دو مراکز پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد سوموار کو وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''کسی کو بھی اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے ساتھ جمع ہوتے ہوئے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے''۔انھوں نے کمیونٹی مرکز اور ریٹائرمنٹ کمیونٹی پر حملے میں تین افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کنساس پولیس نے اتوار کو فائرنگ کے واقعہ میں ملوث ہونے کے شُبے میں ایک انتہا پسند سفید فام کو گرفتار کیا ہے۔کنساس کے پولیس چیف جان ڈوگلس نے اس گرفتار مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن جیل کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مشتبہ حملہ آور کا نام کراس بتایا ہے اور اس کی عمر تہتر برس ہے۔

یہود کے کمیونٹی مرکز میں فائرنگ کے واقعہ میں دو عیسائی (دادا اور پوتا) مارے گئے ہیں۔دادا ڈاکٹر ولیم لیوس کارپورون کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے چودہ سالہ پوتے ریٹ گریفین انڈر ووڈ کو وہاں موسیقی کے ایک مقابلے میں حصہ لینے کے لیے لے کر گئے تھے۔اوورلینڈ پارک کے نزدیک واقع گاؤں شالوم میں ایک ریٹائرمنٹ کمیونٹی پر فائرنگ میں ایک یہودی مارا گیا تھا۔

ڈوگلس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے پولیس کو متعدد بیانات دیے ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دراصل اس نے کیا کہا ہے اور آیا اس کے یہود مخالف جذبات اس حملے کا محرک بنے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''ہم واقعہ کی نفرت کے جرم اور مجرمانہ فعل کے طور پر تفتیش کررہے ہیں اور ہم کسی چیز کو نظرانداز نہیں کررہے ہیں''۔

گرفتار کیے گئے شخص کا آخری نام کراس بتایا گیا ہے۔تاہم اس کا پورا نام فریزئیر گلین ملر ہے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق ماضِی میں وہ یہ دونوں نام استعمال کرتا رہا ہے لیکن وہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو گلین ملر کے طور پر متعارف کراتا رہا ہے اور اس نے 2006ء اور 2010ء میں پبلک آفس کے لیے مہم کے دوران فریزئیر گلین ملر کا نام استعمال کیا تھا۔

مشتبہ ملزم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سفید فاموں کی انتہا پسند سپر ماشسٹ تحریک میں گزارا تھا اور وہ 1980ء کے عشرے اور اس کا مابعد سیاہ فاموں کے خلاف مسلح تنظیموں کا عہدے دار رہا تھا اور مسلح سرگرمیوں میں ملوث رہا تھا۔

وہ ایک ریٹائڑڈ فوجی ہے اور 1987ء میں نارتھ کیرولینا پیراملٹری کیمپ تشکیل دینے کے الزام میں وہ عدالت میں ماخوذ ہونے کے بعد مفرور ہوگیا تھا۔اس کے بعد اس کا پیچھا کیا گیا تھا اور پھر وفاقی ایجنٹوں نے اس کو ایک عارضی گھر سے اس کے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا تھا۔ان کے گھر سے بھاری تعداد میں دستی بم ،خودکار ہتھیار اور ہزاروں گولیاں برآمد کی گئی تھیں۔وہ رہائی کے بعد یہود مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا تھا اور اس نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنی ویب سائٹ پر یہود کے خلاف پیغامات اور تحریریں پوسٹ کی تھیں۔