.

امریکا نے بشارالاسد کا کامیابی کا دعوی مسترد کر دیا

کوئی فریق کامیابی کا دعوی نہیں کر سکتا: جین پاسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ شام میں پچھلے تین سال سے جاری خانہ جنگی صرف پچھتاوے کی جنگ ہے اور اس میں کوئی ایک فریق اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اپنی کامیابی کا دعوی کر سکے۔ اس امر کا اظہار امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان جین پاسکی نے ایک بیان میں کیا ہے۔

امریکی ترجمان نے یہ بات شامی صدر بشارالاسد کے اس دعوے کے بعد کہی ہے جس میں بشار الاسد نے کہا تھا کہ ان کا ''تین سالہ جنگ میں پلہ بھاری رہا ہے اور اب جنگ ان کے حق میں ہو رہی ہے۔'' جین پاسکی نے کہا وہ اس حوالے سے زمین پر جاری کھیل کے'' اپ ڈیٹس'' پر بات نہیں کر رہی ہیں، تاہم اپوزیشن کے ساتھ ہمارے تعاون کی کوششیں جاری ہیں۔

بشارالاسد نے دمشق یونیورسٹی میں اتوار کے روز تین سال پر پھیلی جنگ میں ایک لاکھ پچاس ہزار انسانوں کی جان لینے والی جنگ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی افواج کی پوزیشن بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا ''اس جنگ کا اہم موڑ ہے، دہشت گردی کے خلاف فوجی کامیابیوں اور سماجی اعتبار سے مفاہمتی عمل آگے بڑھ رہا ہے، سچائی کے حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے کہ ملک پر حملہ آور کون ہے۔''

جین پاسکی نے کہا '' بشارالاسد کو ایسا ہی بیان دینا چاہیے تھا، میرے خیال میں اسد نے یہ بات کر کے حیران نہیں کیا ہے کہ وہ جیت رہا ہے۔'' تاہم پاسکی نے کہا یہ غلط ہوگا کہ وہ یہ دعوی کریں کہ جنگ ان کے حق میں ہو رہی ہے۔ اس لیے ہم اس موقع پر کوئی پیش گوئی نہیں کر رہے ہیں۔