.

روسی حامی اسلحہ اور عمارات کا قبضہ چھوڑ دیں: اوباما

یوکرین میں مداخلت کا الزام بے بنیاد ہے: پیوتن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے روسی صدر ولادی میر پیوتن پر زور دیا ہے کہ روس کے حامی گروپ یوکرین میں اسلحہ چھوڑ دیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی ہو سکے۔ اوباما نے یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں اور اسلحہ برداروں کیلیے روسی حمایت پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا جو ان دنوں یوکرینی حکومت کیلیے عدم استحکام کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاوس کے مطابق صدر اوباما نے ان خیالات کا اظہار ٹیلی فون کال پر کیا ہے۔ اس موقع پر صدر اوباما نے زور دیا کہ تمام بے قاعدہ افواج اور لشکروں کو اسلحہ رکھ دینا چاہیے. اس حوالے سے روسی صدر پر انہوں نے زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور روس کے حامی ان مسلح گروپوں سے سرکاری عمارات کا قبضہ چھڑوانے میں کردار ادا کریں جن کی وجہ سے قانون کی حکمرانی کو خطرہ ہے۔ ''

واضح رہے وائٹ ہاوس کے مطابق یوکرین میں ان کارروائیوں اور کریمیا کے روس سے الحاق کے باعث روس سیاسی اور اقتصادی حوالے سے ان دنوں تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ صدر اوباما کی اس فون کال سے پہلے بھی دونوں سربراہان کے درمیان فون پر یوکرین کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔

اوباما نے یوکرینی سرحد سے روسی فوج کے ہٹائے جانے کے مطالبے کا اعادہ کیا تاکہ کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہو جائے۔ انہوں نے اس موقع پر یوکرین کی طرف سے تحمل اور بردباری دکھانے کی تعریف کی۔ اس سے پہلے صدر پیوتن کا کہنا تھا '' کہ یوکرین میں روسی مداخلت کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے اور یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔''

دوسری جانب امریکا اور مغربی ممالک یوکرین میں روسی مداخلت کی وجہ سے اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یوکرین سے پیر کے روز ملنے والی اطلاعات کے مطابق روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے سرکاری عمارات خالی کرنے کیلیے دیا گیا الٹی میٹم نظر انداز کر دیا ہے۔