.

سعودی عرب: خواتین کو بلیک میل کرنیوالوں کو سخت سزائیں

انٹرنیٹ خواتین کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے: شیخ عبداللطیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی مذہبی پولیس کے سربراہ نے ملک میں خواتین کو بلیک میل کرنے کے رجحان کی بیخ کنی کیلیے سخت اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ مذہبی پولیس کے سربراہ نے یہ نوٹ کیا ہے کہ ملک میں اس نوعیت کے بڑھنے والے جرائم کی ایک اہم وجہ انٹرنیٹ ہے ۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن المعروف مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف الشیخ نے '' العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے کہا ایسے افراد جو خواتین کو بلیک میل کرنے کے جرائم میں ملوث ہیں انہیں ان دنوں ہلکی سزائیں دی جاتی ہیں لیکن بڑھتے ہو ئے جرائم کے پیش نظر ایسے افراد کیلیے سخت سزاوں کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے شیخ عبداللطیف الشیخ نے ایک روز قبل نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا '' ایسے لوگوں کے نام سامنے لانا اور انہیں شرمندگی دلانا اس جرم کی راہ روکنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔

'' العربیہ '' کو سرکاری حکام نے بتایا کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں مذہبی پولیس کے دو دو مراکز پر صرف ایک دن میں بلیک میلنگ پر مبنی آٹھ مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے۔

بعض عناصر جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ وغیرہ کو خواتین کو بلیک میل کرنے کیلیے استعمال کر رہے ہیں۔ بلیک میل کرنے والے عناصر خواتین کا آن لائن طریقے سے جنسی استحصال کرتے ہیں، ان سے رقم بٹورتے ہیں،اور انہیں قحبہ گری یا منشیات فروشی کیلیے استعمال ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا ''یہ ممکن ہے کہ ایک خاتون ہی نے غلطی کی ہو اور بعد ازاں ایسے عناصر اس کی تصاویر کو بلیک میلنگ کیلیے استعمال کرتے ہوں، اسی طرح بعض بلیک میلر ایسی غلطی کر بیٹھنے والی خواتین کو منشیات کے کاروبار میں استعمال کرنے لگتے ہیں، اللہ ہمیں ان تمام مظالم سے محفوظ رکھے۔''

مذہبی پولیس کے سربراہ نے کہا '' ہم ایسی خواتین کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں جو کسی وجہ سے بلیک میلرز کا شکار بن گئی ہوں۔'' ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ آن لائن ہونے والے جرائم بلا شبہ قانونی اصطلاحات میں اصلاحات کے متقاضی ہیں اور فی الحال یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہیں۔'' مذہبی پولیس کے سربراہ نے اس سلسلے میں میڈیا کے تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔