.

نائیجیریا: باغیوں نے 100سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں اسلامی فرقے سے تعلق رکھنے والے مشتبہ مزاحمت کاروں نے ایک اسکول سے ایک سو سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا ہے۔

اس علاقے میں واقع ایک اور سرکاری اسکول میں تعینات عودو موسیٰ نامی ایک معلم نے بتایا ہے کہ شبوک میں واقع ایک سرکاری اسکینڈری اسکول سے منگل کو ایک سو سے زیادہ طالبات کو اغوا کیا گیا ہے۔

عودو موسیٰ کے بہ قول اغوا کاروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی فرقے بوکو حرام سے تعلق رکھتے ہیں۔اس گروپ سے تعلق رکھنے والے جنگجو ماضی میں نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں اسکولوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

نائیجیریا کی حکومت نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں امن وامان کی صورت پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں جس کے بعد سے بوکو حرام سے تعلق رکھنے والے جنگجو شہروں سے دیہات کی جانب چلے گئے ہیں لیکن ان کے حملے مسلسل جاری ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

نائیجیریا کی تین شمال مشرقی ریاستوں یوب ،بورنو اور آدم وا کی سرحدیں پڑوسی ممالک نیجر ،چاڈ اور کیمرون سے ملتی ہیں۔نائیجیرین فوج کے بہ قول دہشت گرد حملوں کے بعد غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے ان ممالک میں چلے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں 2009ء کے بعد سے اسلامی مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔نائیجیریا میں تشدد کے ان واقعات کے بعد عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور امریکا نے نومبر 2013ء میں نائیجیریا کی جنگجو تنظیم بوکو حرام اور اس کے ذیلی گروپ انصارو کو دہشت گرد قراردے دیا تھا۔اس نے ان دونوں تنظیموں پر اسلامی مغرب میں القاعدہ سے روابط کا الزام عاید کیا تھا۔