مراکش: برطانوی استاد کو بچوں کیساتھ زیادتی پر سزائے قید

رابرٹ بل کو برطانیہ میں بھی سزا ملی، سپین سے بچ نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مراکش کی ایک عدالت نے برطانوی استاد کو بچوں کو اغواکرنے اور ان کے ساتھ زیادتی کے جرم میں بیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔برطانیہ سے تعلق رکھنے والے اس استاد پر الزام تھا کہ اس نے تین سال کی بچی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق 59 سالہ تعلق رابرٹ بل کا نارتھ ویلز سے تعلق ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے کام کرنے والے ادارے ناردرن آبزرویٹری کے سربراہ محمد بینائیسا کے مطابق اسے عدالت نے متاثرین کا موقف سننے کے بعد مجرم قرار دیا ہے۔

بل نے عدالت کے سامنے خود کو معصوم ظاہر کیا اور کہا بچوں کے ساتھ زیادتی کا کوئی ثبوت اس کے خلاف پیش نہیں کیا جا سکا ہے۔ واضح رہے رابرٹ بل کو عدالتی فیصلے کے خلاف دس دنوں کے اندر اندر اپیل کرنے کا حق ہو گا۔ عدالتی حکم کے مطابق بل کو بیس سال کی قید بھگتنے کے علاوہ ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔

محمد بینائیسا نے اس عدالتی حکم کے بارے میں خیر مقدمی الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا '' یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ کا ذریعہ بنے گا اور بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے لیے انتباہ ہو گا ، اس لیے ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ''

رابرٹ بل کو پچھلے سال ماہ جون کے دوران شمالی مراکش میں تیتاون کے علاقے میں ایک پٹرول سٹیشن سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس کی گاڑی سے ایک چھ سالہ بچی کے چلانے کی آوازیں سنی گئی تھیں، جسے اس نے اغوا کر رکھا تھا۔ مقامی لوگوں نے اس کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس بلا لی۔

بل پر دو اور چھوٹی مراکشی بچیوں کے اغوا اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔ ان دونوں بچیوں کا تعلق مراکش کے دو الگ الگ قصبوں سے ہے ۔ رابرٹ بل کے خلاف مقدمہ ماہ مارچ کے دوران اس وقت التواء میں پڑ گیا تھا جب اس کے خلاف پیش ہونے والے مراکشی وکلاء نے خود کو مقدمے سے الگ کر لیا تھا۔

بل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ 2009 میں اسے برطانیہ میں بھی ایک پانچ سالہ بچی کے اغواء پر سزا سنائی جا چکی ہے۔ برطانوی جیل سے رہائی کے بعد اس نے سپین کا سفر کیا اور وہاں سے نومبر 2012 میں مراکش پہنچا تھا۔

سپین میں قیام کے دوران بھی اس کے خلاف بچوں کو اغوا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ بنایا گیا تھا اور اس کی گرفتاری کیلیے وارنٹ بھی جاری کیے گئے تھے۔ تاہم بل گرفتاری سے پہلے ہی کسی طرح بچتے بچاتے مراکش پہنچ گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں