.

تھائی لینڈ میں حزب اللہ کے دو مشتبہ جنگجو گرفتار

گرفتاری اسرائیلی خفیہ اداروں کے تعاون سے عمل میں آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈ پولیس نے لبنان میں سرگرم شدت پسند شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ لبنانیوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ان کے ایک تیسرے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حزب اللہ ارکان کی گرفتاری کی اطلاع 'stop910.com' نامی نیوز ویب پورٹل کے ذریعے دی گئی تھی جس کے بعد حزب اللہ کے مبینہ جنگجوؤں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے مشتہر ہونے لگیں۔ رپورٹ کے مطابق تھائی حکام نے گذشتہ اتوار کو حزب اللہ عناصر کو حراست میں لیا۔ اطلاعات کے مطابق تھائی حکام نے اسرائیلی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں کے مشترکہ تعاون سے حزب اللہ کے ارکان تک رسائی حاصل کی، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا جا سکا۔

ویب سائٹ پر جاری مختصر خبر اور اس کے ساتھ تین افراد کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔ یوسف عیاد نامی ایک مشتبہ شخص کے پاس فلپائنی شہریت ہے اور وہ حزب اللہ کے سمندر پار آپریشنل یونٹ کا رکن بتایا جاتا ہے۔ اس سے قبل عیاد مشرقی ایشیا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور اب تھائی لینڈ میں تنظیم کے ایک خفیہ سیل میں شامل تھا۔ گرفتار ہونے والے دوسرے مشتبہ حزب اللہ جنگجو کا نام داؤد فرحات بتایا گیا ہے۔ جس کے پاس فرانسیسی شہریت بھی ہے۔ انہی کے ایک تیسرے ساتھی کی شناخت بلال بحسون کے نام سے ہوئی ہے تاہم ابھی تک وہ پکڑا نہیں گیا البتہ سیکیورٹی ادارے اس کی تلاشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تھائی امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ اتوار کو حراست میں لیے گئے دو حزب اللہ ارکان میں سے ایک کے پاس فرانسیسی اور دوسرے کے پاس فلپائنی شہریت ہے۔ فلپائنی اخبار"دی نیشن" نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

تھائی لینڈ کی داخلی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل پاراڈورن پاٹینٹا بٹ نے اخبار "دی نیشن" کو بتایا کہ حزب اللہ کے مشتبہ جنگجوؤں کی گرفتاری میں اسرائیل کی معاونت شامل ہے۔ دونوں گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے۔ ان کے تھائی لینڈ میں کیا مقاصد تھے اس کے بارے میں ابھی تک کوئی وضاحت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

یہودیوں کی عید پر دہشت گردی کا منصوبہ؟

تھائی لینڈ کے سیکیورٹی حکام کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو "سوخو مفیٹ" نامی علاقے میں ایک مکان سے پکڑا گیا۔ یہ علاقہ ہوٹلوں، مارکیٹ اور پبلک مقامات کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہاں پر اکثر مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کا ھجوم لگا رہتا ہے۔

مقامی یہودی اور اسرائیل سے سیاحت کے لیے آنے والے یہودی اس علاقے میں اکثر قیام کرتے ہیں۔ اس لیے یہ امکان موجود ہے کہ لبنانی مشتبہ افراد ایک ایسے وقت میں اس علاقے میں داخل ہوئے جب یہودی مذہبی تہوار عیدالفصح منا رہے ہیں۔ اس لیے یہ شبہ کیا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ عناصر کی آمد کا مقصد اس علاقے میں یہودیوں کی سرگرمیوں کو درہم برہم کرنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا میں "عید الفصح" کی تقریبات میں فائرنگ کا واقعہ رونما ہو چکا ہے۔ اس واقعے کے بعد حزب اللہ کے مشتبہ جنگجوؤں کا تھائی لینڈ کے گنجان آباد اور حساس علاقے تک پہنچنا باعث تشویش ہے۔

خیال ہے کہ تھائی لینڈ میں جنوری 2012ء میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں اس کی شناخت 47 سالہ حسین عتریس کے نام سے ہوئی جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ لبنان سے تعلق رکھتا ہے اور حزب اللہ کا رکن ہے۔ اس کی گرفتاری بھی اسرائیل کی نشاندہی پرعمل میں لائی گئی تھی۔ عتریس کی گرفتاری کے بعد تھائی حکام نے بتایا کہ حزب اللہ جنگجو تنظیم کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کی چوتھی برسی کے موقع پر تھائی لینڈ میں پہنچا تھا اور اس نے تین مزید ساتھیوں کی مدد سے یہودیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔