.

خلیجی ریاستوں میں تنازعہ ختم ہوچکا: اومانی وزیرخارجہ

چار خلیجی ریاستوں کے درمیان بحران کو داخلی طور پر ہی طے کر لیا گیا ہے: انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اومانی وزیرخارجہ یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کا اس کی ہمسایہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ تنازعہ ختم ہوچکا ہے اور یہ اب ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔

انھوں نے یہ بات عربی روزنامے الحیات کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔اخبار ان کا یہ طویل انٹرویو آیندہ دو روز میں شائع کررہا ہے۔اومانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ''خلیجی ریاستوں کے درمیان بحران کو داخلی طور پر ہی طے کر لیا گیا ہے اور کسی کو بھی اس معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں دی گئی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''بھائیوں کے درمیان جو کچھ ہوا،وہ ختم ہوچکا۔اب خلیجی ہمسایوں کے درمیان تعلقات ''صاف'' ہوچکے ہیں''۔واضح رہے کہ اومان اور کویت نے قطر اور اس کی ہمسایہ تین خلیجی ریاستوں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان تنازعے کو ختم کرانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔یہ تمام چھے ممالک علاقائی تنظیم خلیج تعاون کونسل میں شامل ہیں۔

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ تنازعہ پیدا ہونے کے بعد دوحہ میں متعین اپنے سفراء کو واپس بلا لیا تھا۔ان تینوں ممالک نے یہ اقدام قطر کی جانب سے مصر کی اسلامی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور خطے کے دوسرے ممالک میں اس کی شاخوں کی مسلسل حمایت کے ردعمل میں کیا تھا اور کہا تھا کہ قطر علاقائی سکیورٹی معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہا ہے، اس لیے اس کے ہاں متعین سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال طے پائے اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ''جی سی سی کے تمام رکن ممالک کسی دوسرے ملک کے داخلی امور میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور وہ ایسی تنظیموں یا افراد کی حمایت بھی نہیں کریں گے جن سے جزیرہ نما عرب کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہوں۔خواہ یہ خطرات براہ راست سکیورٹی ورک یا سیاست پر اثرانداز ہونے سے متعلق ہوں''۔

قطر ،متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور بحرین کے درمیان مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔سعودی عرب حسنی مبارک کو اپنا اہم اتحادی خیال کرتا تھا جبکہ قطر نے ان کے بعد منتخب ہونے والے اخوان المسلمون کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کوخطیر مالی امداد مہیا کی تھی اور وہ واحد عرب خلیجی ملک تھا جس نے مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب مضبوط صدارتی امیدوار فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی اور اخوان المسلمون کے خلاف مصری فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب مصرکی فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے حامی ہیں اور ان دونوں ممالک کی حکومتوں نے اپنے ہاں اخوان المسلمون کے کارکنان اور حامیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا ہے جس کے دوران اس تنظیم سے وابستہ سیکڑوں کو پکڑ کر پابند سلاسل کردیا گیا اور انھوں نے مصر کی پیروی میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے دیا تھا۔