.

الجزائر میں صدارتی انتخاب کے لئے ووٹنگ کا آغاز

سابق ٓصدر بوتفلیقہ وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے اہم عرب ملک میں آج صدارتی انتخاب کے لئے 22 ملین اہل ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

انتخاب میں چھے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جن میں اپنی مدت صدارت مکمل کرنے والے عبدالعزیز بوتفلیقہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دارلحکومت الجیر کے مقامی سکول میں قائم پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالا. سرکردہ صدارتی امیدوار اپنی علالت کی وجہ سے عوامی جلسوں سے خطاب نہیں کر سکے تھے۔ بوتفلیقہ کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر ووٹ ڈالنے کے لئے سخت حفاظتی انتظامات میں پولنگ اسٹیشن لایا گیا. اس موقع پر صرف سرکاری ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے من پسند صحافیوں کو کوریج کی اجازت دی گئی جس پر صحافتی برادری نے شدید احتجاج کیا.

سمندر پار الجزائری شہریوں نے مختلف ملکوں میں موجود اپنے سفارتی مشنز اور قونصل خانوں میں کئی دن پہلے سے ہی ووٹ ڈالنا شروع کر دیے تھے۔ نیز ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ووٹوں کا عمل چند روز قبل شروع ہو گیا تھا تاکہ بروقت انتخابی نتائج مرتب کیے جا سکیں۔

ادھر مدت صدارت ختم ہونے کے بعد نئی ٹرم کے لئے بطور امیدوار سامنے آنے والے عبدالعزیز بوتفلیقہ نے انتخابی بائیکاٹ کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل رکھا ہے۔ ان کی انتخابی مہم چلانے والوں کے اعلان کے مطابق وہ آج کسی وقت اپنا ووٹ ڈالنے جائیں گے تاکہ اس تاثر کی نفی کی جا سکے کہ وہ اپنی علالت کے باعث صدارتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان کے قریب ترین مدمقابل علی بن فلیس نے انتخابی عمل میں دھاندلی کی کوششوں کے بارے میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

یاد رہے کہ چار اسلام پسند اور ایک سیکولر سیاسی جماعت نے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کی کال دے رکھی ہے۔ ان جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ سترہ اپریل کے بعد میں عبوری نظام تشکیل دیا جائے۔ سابق صدر بوتفلیقہ نے اپنے مدمقابل صدارتی امیدوار علی بن فلیس پر الزام عاید ہے کہ وہ ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں، اس الزام کے بعد الجزائر میں بڑے پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے۔