.

"ایران جوہری سمجھوتے کی پاسداری کر رہا ہے"

تہران نے 20 فی صد تک افزودہ یورینیم کا نصف ذخیرہ ناکارہ بنا دیا: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران گذشتہ سال چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کی پاسداری کررہا ہے۔

ویانا میں قائم آئی اے ای اے کی اس خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنی اعلیٰ افزودہ یورینیم کے نصف ذخیرے کو ناکارہ بنا دیا ہے۔بیس فی صد تک اعلیٰ افزودہ یورینیم سے جوہری ہتھیار کو جلد تیار کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے پر پاسداری کے بعد اس کی یورینیم کو بیس فی صد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے اور بیس فی صد سے کم تر افزودہ یورینیم کا یہ مطلب ہے کہ وہ جوہری ہتھیار کی تیاری سے فنی طور پر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا ہے۔اب اس کا کہنا ہے کہ اس کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

ایران کی جانب سے بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کے نصف ذخیرے کو ناکارہ بنانا چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کا حصہ تھا۔اس کے بدلے میں امریکا اور یورپی یونین نے ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی ہے اور اس کے منجمد کیے گئے اثاثے بحال کردیے ہیں۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں 24 نومبر2013ء کو جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور اس کے بدلے میں پابندیوں کے خاتمے سے متعلق چھے ماہ کے لیے عبوری سمجھوتا طے پایا تھا۔اس پر 20 جنوری سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور 20 جولائی کو یہ ختم ہوجائے گا۔اس سے پہلے فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کے مسودے پر بات چیت جاری ہے۔