بڑھتی ہوئی ایرانی جاسوسی پر صنعاء میں تشویش

تہران پر یمنی باشندوں کو جاسوسی کی تربیت فراہم کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں ایران کی سرگرمیوں پر صنعاء حکومت نے ایک مرتبہ پھر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے اپنی جاسوسی کی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

یمنی حکومت کے ایک باوثوق ذریعے کے مطابق ایران، یمنی نوجوانوں کو لبنان اور اپنے ہاں جاسوسی کی تربیت دے کر انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بہ ظاہر ان یمنی شہریوں کو تعلیمی، ابلاغی اور انسانی خدمت کی تربیت کی آڑ میں لے جایا جاتا ہے لیکن حقیقت میں انہیں صرف اپنا جاسوس بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ یمن میں اس کی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی پیش پیش ہے۔ لبنان میں یمنی نوجوانوں کو ابلاغیات کی تعلیم دینے کی آڑ میں حزب اللہ جاسوسی کی تربیت فراہم کرتی ہے۔

یمن کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے العربیہ کو بتایا کہ صنعاء اور دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں سماجی اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں، ارکان پارلیمان اور دیگر شہریوں کو حزب اللہ اور حوثی شدت پسند ملی بھگت کے تحت تہران اور لبنان بھیج رہے ہیں جہاں ان نوجوانوں کو ایران اور حزب اللہ کے لیے جاسوسی کی تربیت اوررقوم فراہم کی جاتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں حوثیوں کے اکسانے پر کئی شہری لبنان کے راستے تہران پہنچے۔ انہیں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ارکان کی آڑ میں ایران لے جایا جاتا ہے اور انہی تنظیموں کی آڑ میں مختلف گروپوں کے نام پر یہ لوگ واپس آ کر ایران کے لیے کام کرتے ہیں۔

یمن کی سرکاری رپورٹس کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ایران داخل ہونے والے یمنی باشندوں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران یہ یقین دہانی کی جاتی رہی ہے کہ کیا اسے حزب اللہ کی جانب سے خصوصی طور پر بھیجا گیا ہے یا نہیں۔ اس طرح یمنی باشندوں کا ایران میں لبنان کے راستے داخلہ ممکن ہو رہاہے۔

ذرائع کے مطابق یمن کے شدت پسند حوثیوں کے زیر اثر علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلباء ایران میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے جاتے ہیں۔ گذشتہ جنوری میں صنعاء حکام نے ایسے 30 طلباء کو ایران جانے سے روک دیا تھا۔ ان میں ایک اہم حوثی مبلغ بھی شامل تھا جو ان بچوں کو ایران لے جا رہا تھا۔

حال ہی میں یمنی وزیر تعلیم ھشام شرف نے بتایا کہ یمنی طلباء کا ایران میں تحصیل علم کے لیے بھجوانے کا سلسلہ پچھلے نو سال سے بند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر کسی طالب علم کو ایران نہیں بھیجا جا رہا ہے تاہم جو طلباء ایران جا رہے ہیں وہ ایران نواز حوثی گروپوں کی جانب سے غیر قانونی طریقے استعمال کر کے بھیجے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں