جنوبی سوڈان: اقوام متحدہ کے کیمپ پر حملہ، 58 ہلاک

حملہ آور پرامن مظاہرین بن کر آئے اور فائرنگ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی سوڈان میں مسلح بندوق برداروں نے اقوام متحدہ کے بیس کیمپ پر حملہ کر کے 58 افراد کو قتل کر دیا ہے۔ یہ حملہ آور بظاہر پرامن مظاہرین کے روپ میں اقوام متحدہ کے ذمہ دارن کو ایک عرض داشت دینے آئے تھے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یواین کے کیمپ میں موجود پانچ ہزار پناہ گزین ہیں جو خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہو کر پچھلے سال دسمبر سے یہاں موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ '' اس حملے کے دوران کم از کم 58 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ '' اقوام متحدہ کیلیے امریکی سفیر سمناتھ پاور نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا '' یہ غیر مسلح انسانوں پر آتشیں اور غیر انسانی حملہ ہے۔'' امریکی سفیر کے مطابق کم از کم بیس افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے ہیں۔

واضح رہے اس سے پہلے اقوام متحدہ نے عبوری طور پر کہا تھا کہ اس واقعے میں درجنوں لوگ اپنے مخالف قبیلے کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مکمل طور پر کسی اشتعال انگیزی کے بغیر کیا گیا ہے۔

سخت غضب آلود حملہ آوروں کے ایک ہجوم نے اقوام متحدہ کے کیمپ میں پناہ لینے والے سوڈانیوں کو نسلی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی تھی۔

اس صورت حال میں یو این کے امن کارکن جوابی فائر کھولنے پر مجبور ہو گئے تاکہ بے قابو ہو جانے والے حملہ آوروں کو روکا جا سکے ۔اس دوران کم از کم بارہ لوگ مارے گئے۔ جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے حکام نے اس بے جواز حملے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مجرمانہ کارروائی کی تحقیقات کی جائیں۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دراجک نے اس بارے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ''حملہ آوور بظاہر پر امن مظاہرین کے طور پر اس کیمپ میں آئے تاکہ اقوام متحدہ کے ذمہ داروں تک اپنی عرضداشت پیش کر سکیں۔ بعد ازاں ان مظاہرین نے فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے دو امن کارکن بھی زخمی ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں