بوتفلیقہ چوتھی مدت کے لیے الجزائر کے صدر منتخب

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 51.3 فی صد رہی،علی بن فلیس دوسرے نمبر پر رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر کے علیل سربراہ ریاست عبدالعزیز بوتفلیقہ انتخابات میں ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے 81.53 فی صد ووٹ لے کر چوتھی مدت کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

الجزائری وزیرداخلہ طیب بلعیز نے جمعہ کو صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کیا ہے۔بوتفلیقہ کے قریب ترین حریف علی بن فلیس رہے ہیں۔ان کے حق میں صرف 12.18 فی صد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 51.3 فی صد رہی ہے۔انتخابی عمل آزادانہ اور شفاف انداز میں مکمل ہوا ہے اور اکا دکا چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ کوئی ایسا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے جس سے پورا انتخابی عمل متاثر ہوجاتا۔

جمعرات کو پولنگ کے دوران الجزائر کے مشرقی علاقے قبائلی میں تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے اور دارالحکومت الجزائر میں عبدالعزیز بوتفلیقہ کے چوتھی مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

حزب اختلاف کی چھے جماعتوں نے ان صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور حکومت پر پولنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔علی بن فلیس نے بھی حکومت پر بے ضابطگیوں کے الزامات عاید کیے ہیں اور انھوں نے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ستتر سالہ عبدالعزیز بوتفلیقہ جمعرات کو پولنگ کے دوران ووٹ ڈالنے کے لیے وہیل چئیر پر نمودار ہوئے تھے اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر بعض الجزائریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جو شخص خود وہیل چئیر پر ووٹ ڈالنے کے لیے آیا ہے تو وہ پورے ملک کو پانچ سال تک کیسے بخیروخوبی چلا سکے گا۔بوتفلیقہ گذشتہ کئی ماہ سے عوام میں نمودار نہیں ہوئے تھے۔

وہ گذشتہ پندرہ سال سے الجزائر کے حکمراں چلے آرہے ہیں۔وہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں وہ دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ اکہتر فی صد ووٹ لے کرصدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے تیسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے آئین میں ترامیم کی گئی تھیں کیونکہ الجزائری آئین کے تحت پہلے کوئی شخصیت تیسری مرتبہ ملک کا صدر نہیں بن سکتی تھی۔

بوتفلیقہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔وہ گذشتہ سال مسلسل تین ماہ تک پیرس میں زیر علاج رہے تھے اور اس کے بعد بھی وہ کم کم ہی نظر آئے ہیں۔ان کی انتخابی مہم بھی ان کے حامیوں نے چلائی ہے۔انھوں نے اپریل 2012ء میں 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی نسل کے لوگوں کا وقت گزر چکا ہے۔

ان کا اشارہ فرانس سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے لیڈروں کی جانب تھا جو 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلاتے آ رہے ہیں لیکن گذشتہ سال نومبر میں ان کی جماعت نے انھیں چوتھی مدت کے لیے صدارتی امیدوار نامزد کردیا تھا۔وہ اپنی علالت کے باوجود الجزائری عوام میں مقبول ہیں اور انھوں نے ملک کو نوے کی عشرے میں خونریز خانہ جنگی سے نکالنے کے بعد ترقی کی راہ پر ڈالنے میں اہم کردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں