پاپائے روم کی مسلمان سمیت 12 افراد کی قدم بوسی

فرانسیس اول کا خلاف معمول اپنے گناہوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عیسائی دنیا کے مذہبی و روحانی پیشوا وٹیکن پوپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ فرانسیس اول پہلے ہی متنازعہ شخصیت کے طور پر شہرت پا چکے ہیں لیکن گزشتہ روز انہوں نے ایک معمر لیبی مسلمان کے پاؤں دھوئے، اس کے سامنے جھکے اور قدم بوسی کے ذریعے اپنی محبت کا منفرد اظہار کر کے خود کو ایک مرتبہ پھر ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی خبر رساں اداروں نے پوپ کے اس منفرد اقدام کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور عام لوگوں کی قدم بوسی کو ان کے تحمل، برداشت اور انسانیت سے محبت کی علامت قرار دیا ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ انجیل کی تعلیمات کے مطابق عیسائی اور یہودیوں مذاہب کے مذہبی تہوار عیدالفصح کے موقع پر خاندان اور قوم کے بڑے لوگ کم مرتبہ افراد کے پاؤں دھوتے اور ان کی قدم بوسی کی روایت پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ روایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بارہ شاگردوں [حواریوں] کے پاؤں دھونے کے ساتھ ساتھ ان کی قدم بوسی کی تھی۔

اس کے بعد یہ روایت عیسائی پادریوں نے اپنالی جو دنیا کے مختلف خطوں اور فلسطین میں سال ہا سال سے رائج ہے۔ اس روایت کے تحت عیدالفصح کے موقع پر آقا اپنے غلاموں کے پاؤں دھوتے اور ان کی قدم بوسی کرتے ہیں۔ عیسائیوں کے ہاں اس عید کو 'یوم سر عظیم' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور اس روز شام سے پہلے پہلے بارہ افراد کے پاؤں دھلائے جاتے ہیں۔

انجیل مقدس کی اسی روایت کے مطابق وٹیکن پوپ فرانسیس اول نے جمعرات کو 75 سالہ لیبی مسلمان حامد اور 16 سے 86 سال کے ایک درجن افراد کے پاؤں دھوئے اور ان کی قدم بوسی کی۔

فرانسیس اول کی جانب سے ایسا پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا بلکہ وہ گذشتہ برس روم کی ایک جیل میں قیدیوں اور کچھ دوسرے افراد کے پاؤں دھو چکے ہیں۔ تاہم گذشتہ برس انہوں نے ایک متنازعہ قدم اس وقت اٹھایا جب خلاف روایت انہوں نے 14 سے 21 سال کی دو لڑکیوں کے بھی پاؤں دھونے کے ساتھ ان کے پاؤں چومے تھے۔ ان میں ایک سربین مسلمان لڑکی بھی تھی۔

ویٹکن کی تاریخ میں کسی پادری کی جانب سے صنف نازک کے پاؤں کو چھونا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن فرانسیس اول نے اس روایت کو توڑا۔ علاوہ ازیں وہ عیسائیت کی کئی دوسری روایات کو بھی توڑنے کے قائل ہیں۔ مثلاً وہ خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا تھا کہ "اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم دوسرا اس کے آگے کر دو" لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔

پاپائے روم فرانسیس اول اپنے پیشرو مذہبی پیشواوں سے کئی اعتبار سے مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ انہوں نے وٹیکن پوپ کی حیثیت سے حاصل تمام خصوصی مراعات جن میں سرخ شاہی جوتا، شاہانہ لباس اور لکژری گاڑی لینے سے انکار کر دیا، لیکن ان کی متنازعہ شخصیت کا ایک اور پہلو حال ہی میں 10 اپریل کو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے ایک کاہن کے سامنے جھک کر اپنی ماضی کی غلطیوں اور گناہوں کا کھلے عام اعتراف کیا۔

عموما پوپ کے بارے میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ معصوم عن الخطاء اور رسول کا نائب ہوتا ہے، جس سے گناہ کے صدور کا امکان نہیں ہوتا۔ تاہم فرانسیس اول نے کاہن کے سامنے برملا اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں چوریاں کرتا تھا۔ ایک نائٹ کلب کی چوکیداری بھی کی اور میں نے حضرت مسیح کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا اس کے آگے نہ کرو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں